ملک زادہ منظٓور احمد ترکِ محبّت اپنی خطا ہو،ایسا …


ملک زادہ منظٓور احمد

ترکِ محبّت اپنی خطا ہو،ایسا بھی ہوسکتا ہے
وہ، اب بھی پابندِ وَفا ہو،ایسا بھی ہوسکتا ہے

دروازے پر آہٹ سُن کر، اُس کی طرف کیوں دھیان گیا
آنے والی، صِرف ہَوا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے

حال پریشاں سُن کر میرا، آنکھ میں اُس کی آنسُوں ہیں
میں نے اُس سے جھوٹ کہا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے

عرضِ طلب پر، اُس کی چُپ سے ظاہر ہے اِنکار، مگر !
شاید وہ کچھ سوچ رہا ہو، ایسا بھی ہوسکتا ہے

حدِّ نظر تک صرف دُھواں تھا، برق پہ کیوں اِلزام دھریں
آتشِ گُل سے باغ جلا ہو، ایسا بھی ہوسکتا ہے

خُون بہانا اُس کا شیوہ، ہے تو سہی، منظورؔ! مگر
ہاتھ پہ اُس کے رنگِ حِنا ہو، ایسا بھی ہوسکتا ہے

مَلِک زادہ منظٓور احمد