Category: منتخب غزلیں
-

آنسو بہت کمال کی چیز ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں بہت شفاف…
آنسو بہت کمال کی چیز ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں بہت شفاف نظر آتے ہیں حالانکہ پتا نہیں کتنا میل، کتنا کھوٹ، کتنا پچھتاوا یہ اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہے ہوتے ہیں۔۔ (عمیرہ احمد کے ناول ” بس اک داغِ ندامت ” سے اقتباس)
-

دروازہ کُھلا رکھا تھا، بَرسات سے پہلے ہم، تُم سے …
دروازہ کُھلا رکھا تھا، بَرسات سے پہلے ہم، تُم سے شناسا تھے، ملاقات سے پہلے یہ سوچ بھی اِک سلسلہ ء خواب نُما ہے ہر بات پہنچ جاتی ہے، ہربات سے پہلے یہ کیسا کرشمہ ہے کہ وہ سَر و سُخن بھی اب ہاتھ بڑھاتاہے ، مِرے ہاتھ سے پہلے یہ گُل ہے، وہ نغمہ،…
-

منشی امیرؔ احمد مینائؒ سیّد نصیر الدین نصیرؒ ۔۔۔۔۔…
منشی امیرؔ احمد مینائؒ سیّد نصیر الدین نصیرؒ ۔۔۔۔۔ امیر مینائؔ یا نبی ہِند میں ہم ٹھوکریں کھائیں کب تک دیکھیے آپ مدینے میں بُلائیں کب تک آنکھیں پتھرا گئیں ہیں راہ بہت دیکھ چُکے سختیاں دردِ جُدائ کی اُٹھائیں کب تک پِھر کے آتے ہیں جو زائر ہمیں کرتے ہیں خجل بات بِگڑی ہُوئ…
-
پھر وہی ہم ہیں، خیالِ رُخِ زیبا ہے وہی سرِ شوریدہ …
پھر وہی ہم ہیں، خیالِ رُخِ زیبا ہے وہی سرِ شوریدہ وہی، عشق کا سودا ہے وہی دانہ و دام سنبھالا مرے صیّاد نے پھر اپنی گردن ہے وہی، عشق کا پھندا ہے وہی پھر لگی رھنے تصوّر میں وہ مژگانِ دراز رگِ جاں میں خلشِ خارِ تمنّا ہے وہی پھر لگا رہنے وہی سلسلۂ…
-

ناطقؔ لکھنوی کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس …
ناطقؔ لکھنوی کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہے میں سراپا دل ہوں دل میرا سراپا درد ہے یہ سمجھ لیں پہلے آپ اے حضرتِ عیسیٰ ذرا کس کے دل میں درد ہے یہ اور کس کا درد ہے جو چلا دنیا سے وہ رکھے ہوئے سینے پہ ہاتھ میں سمجھتا ہوں…
-

حافظ کی غزل کا منظوم ترجمہ از ڈاکٹر خالد حمید ایم …
حافظ کی غزل کا منظوم ترجمہ از ڈاکٹر خالد حمید ایم ڈی مے کے بغیر بزم ہے کیا، نو بہار کیا ساقی کہاں ہے اور ہے یہ انتظار کیا معنیِ آبِ زندگی و روضۂ ارم جز طرفِ جوئیبار و مئے خوشگوار کیا تھوڑی بہت خوشی بھی زمانے میں ہے بہت جز رنگ ورنہ عمر کا…
-

مسیح الملک حکیم اجمل خان شیدا – کچھ بات ہی تھی ایس…
مسیح الملک حکیم اجمل خان شیدا – کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے ہم اور جاتے بزمِ عدو میں؟ مگر گئے یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے لیکن یہاں سے دُور کچھ اہلِ سفر گئے ارماں جو ہم نے جمع…
-

شاعری سچ بولتی ہے لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھ…
شاعری سچ بولتی ہے لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زباں ڈولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے تیرا اصرار کہ چاہت مری بیتاب نہ ہو واقف اس غم سے مرا حلقۂ احباب نہ ہو تو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں رولتی…
-

-

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاو وہیں سے ل…
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاو وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بے زار ہو جاو ملاقاتوں میں وقفہ اس لیے ہونا ضروری ہے کہ تم اک دن جدائی کے لیے تیار ہو جاو پروین شاکر