Category: منتخب غزلیں
-

-

-

عطا شاد کی پیدائش Nov 13, 1939 اردو اور بلوچی کے …
عطا شاد کی پیدائش Nov 13, 1939 اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد 13 نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے تھے۔ عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا- 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں بلوچستان…
-

جاڑے ——- ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ دیکھے جاڑے د…
جاڑے ——- ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ دیکھے جاڑے دو بجے دن کو اذاں دیتے تھے مرغ سارے وہ گھٹا ٹوپ نظر آتے تھے دن کو تارے سرد لہروں سے جمے جاتے تھے مے کے پیالے ایک شاعر نے کہا چیخ کے ساغر بھائی عمر میں پہلے پہل چمچے سے چائے کھائی آگ چھونے…
-

عرفان صدیقی تیرے تن کے بہت رنگ ہیں جانِ من، اور ن…
عرفان صدیقی تیرے تن کے بہت رنگ ہیں جانِ من، اور نہاں دل کے نیرنگ خانوں میں ہیں لامسہ، شامہ و ذائقہ، سامعہ، باصرہ، سب مرے رازدانوں میں ہیں اور کچھ دامنِ دل کشادہ کرو، دوستو شکرِ نعمت زیادہ کرو پیڑ، دریا، ہوا، روشنی، عورتیں، خوشبوئیں، سب خدا کے خزانوں میں ہیں ناقہٴ حسن کی…
-

امجد حیدرآبادی شکوہ اس کے غضب کا کرتا بھی ہوں ہر س…
امجد حیدرآبادی شکوہ اس کے غضب کا کرتا بھی ہوں ہر سانس میں پھر دم اس کا بھرتا بھی ہوں مالک میں مرے، مہر بھی ہے قہر بھی ہے مرتا بھی ہوں اُس پہ، اُس سے ڈرتا بھی ہوں
-

آنسو بہت کمال کی چیز ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں بہت شفاف…
آنسو بہت کمال کی چیز ہوتے ہیں۔ دیکھنے میں بہت شفاف نظر آتے ہیں حالانکہ پتا نہیں کتنا میل، کتنا کھوٹ، کتنا پچھتاوا یہ اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہے ہوتے ہیں۔۔ (عمیرہ احمد کے ناول ” بس اک داغِ ندامت ” سے اقتباس)
-

دروازہ کُھلا رکھا تھا، بَرسات سے پہلے ہم، تُم سے …
دروازہ کُھلا رکھا تھا، بَرسات سے پہلے ہم، تُم سے شناسا تھے، ملاقات سے پہلے یہ سوچ بھی اِک سلسلہ ء خواب نُما ہے ہر بات پہنچ جاتی ہے، ہربات سے پہلے یہ کیسا کرشمہ ہے کہ وہ سَر و سُخن بھی اب ہاتھ بڑھاتاہے ، مِرے ہاتھ سے پہلے یہ گُل ہے، وہ نغمہ،…
-

منشی امیرؔ احمد مینائؒ سیّد نصیر الدین نصیرؒ ۔۔۔۔۔…
منشی امیرؔ احمد مینائؒ سیّد نصیر الدین نصیرؒ ۔۔۔۔۔ امیر مینائؔ یا نبی ہِند میں ہم ٹھوکریں کھائیں کب تک دیکھیے آپ مدینے میں بُلائیں کب تک آنکھیں پتھرا گئیں ہیں راہ بہت دیکھ چُکے سختیاں دردِ جُدائ کی اُٹھائیں کب تک پِھر کے آتے ہیں جو زائر ہمیں کرتے ہیں خجل بات بِگڑی ہُوئ…
-
پھر وہی ہم ہیں، خیالِ رُخِ زیبا ہے وہی سرِ شوریدہ …
پھر وہی ہم ہیں، خیالِ رُخِ زیبا ہے وہی سرِ شوریدہ وہی، عشق کا سودا ہے وہی دانہ و دام سنبھالا مرے صیّاد نے پھر اپنی گردن ہے وہی، عشق کا پھندا ہے وہی پھر لگی رھنے تصوّر میں وہ مژگانِ دراز رگِ جاں میں خلشِ خارِ تمنّا ہے وہی پھر لگا رہنے وہی سلسلۂ…