Category: منتخب غزلیں
-

ناطقؔ لکھنوی کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس …
ناطقؔ لکھنوی کیا بتاؤں دل کہاں ہے اور کس جا درد ہے میں سراپا دل ہوں دل میرا سراپا درد ہے یہ سمجھ لیں پہلے آپ اے حضرتِ عیسیٰ ذرا کس کے دل میں درد ہے یہ اور کس کا درد ہے جو چلا دنیا سے وہ رکھے ہوئے سینے پہ ہاتھ میں سمجھتا ہوں…
-

حافظ کی غزل کا منظوم ترجمہ از ڈاکٹر خالد حمید ایم …
حافظ کی غزل کا منظوم ترجمہ از ڈاکٹر خالد حمید ایم ڈی مے کے بغیر بزم ہے کیا، نو بہار کیا ساقی کہاں ہے اور ہے یہ انتظار کیا معنیِ آبِ زندگی و روضۂ ارم جز طرفِ جوئیبار و مئے خوشگوار کیا تھوڑی بہت خوشی بھی زمانے میں ہے بہت جز رنگ ورنہ عمر کا…
-

مسیح الملک حکیم اجمل خان شیدا – کچھ بات ہی تھی ایس…
مسیح الملک حکیم اجمل خان شیدا – کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے ہم اور جاتے بزمِ عدو میں؟ مگر گئے یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے لیکن یہاں سے دُور کچھ اہلِ سفر گئے ارماں جو ہم نے جمع…
-

شاعری سچ بولتی ہے لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھ…
شاعری سچ بولتی ہے لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زباں ڈولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے تیرا اصرار کہ چاہت مری بیتاب نہ ہو واقف اس غم سے مرا حلقۂ احباب نہ ہو تو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں رولتی…
-

-

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاو وہیں سے ل…
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاو وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بے زار ہو جاو ملاقاتوں میں وقفہ اس لیے ہونا ضروری ہے کہ تم اک دن جدائی کے لیے تیار ہو جاو پروین شاکر
-

-

آج الطاف حسین حالیؔ اور داغؔ دہلوی کے شاگرد۔ معروف…
آج الطاف حسین حالیؔ اور داغؔ دہلوی کے شاگرد۔ معروف شاعر بیخودؔ بدیوانی کا یومِ وفات ہے بے خود بدایونی کا اصل نام محمد عبد الحئی صدیقی تھا۔ آپ 17 ستمبر 1857ء کو بدایوں کے ایک صوفی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُس زمانے کے رواج کے مطابق بے خود نے پہلے عربی اور فارسی کی…
-

‘ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال غزل ۔( منسوخ) جان دے کر …
‘ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال غزل ۔( منسوخ) جان دے کر تمہیں جینے کی دعا دیتے ہیں پھر بھی کہتے ہو کہ عاشق ہمیں کیا دیتے ہیں کوچہٓ یار میں ساتھ اپنے سُلایا ان کو بختِ خُفتہ کو مرے پانوں دُعا دیتے ہیں بدگمانی کی بھی کچھ حد ہے کہ ہم قاصد سے قسمیں سو…
-

حبیب الرحمٰن اعظمی زاہد عمری کا یومِ وفات November…
حبیب الرحمٰن اعظمی زاہد عمری کا یومِ وفات November 10,2017 سنو کہ ہم پھر نہ مل سکیں گے، بڑھو کہ دیدار آخری ہے اٹھو کہ اٹھنے کو ہے جنازہ، چلو چلی ہے برات اپنی !!