منشی امیرؔ احمد مینائؒ سیّد نصیر الدین نصیرؒ ۔۔۔۔۔…
منشی امیرؔ احمد مینائؒ
سیّد نصیر الدین نصیرؒ
۔۔۔۔۔
امیر مینائؔ
یا نبی ہِند میں ہم ٹھوکریں کھائیں کب تک
دیکھیے آپ مدینے میں بُلائیں کب تک
آنکھیں پتھرا گئیں ہیں راہ بہت دیکھ چُکے
سختیاں دردِ جُدائ کی اُٹھائیں کب تک
پِھر کے آتے ہیں جو زائر ہمیں کرتے ہیں خجل
بات بِگڑی ہُوئ لوگوں سے بنائیں کب تک
صاف مطلع ہو دِکھاؤ ہمیں اُمّید کا دِن
گہری گہری یہ شبِ غم کی یہ گھٹائیں کب تک
اشک غم رُک نہیں سکتے ہیں کہاں تک روکیں
دردِ دِل چُھپ نہیں سکتا ہے چُھپائیں کب تک
نہیں مِلتی ہمیں دُنیا کے بکھیڑوں سے نِجات
یا نبی گِرد رہیں گی یہ بلائیں کب تک
کیجیے وعدہ کا کہ اب تاب نہیں
کہیے بدلیں گی مخالف کی ہَوائیں کب تک
چل زیارت کو بہانے نہیں اچھّے ہیں امیرؔ
جمع کر دِل کو پریشاں یہ راہیں کب تک۔۔۔!
۔۔۔۔۔
سید نصیرؔ
ہوں گی مقبُول حضُوری کی دُعائیں کب تک
دیکھیے مُجھ کو مدینے وہ بُلائیں کب تک
دیکھنا یہ ہے کہ وہ سامنے آئیں گے کب تک
جلوہِ ہوش رُبا ہم کو دِکھائیں گے کب تک
جذبِ دِل اب تو مُجھے سُوۓ مدینہ لے چل
مَیں بھگتتا رہُوں فُرقت کی سزائیں کب تک
گِریہِ عِشقِ مُحمّد بھی سُکوں ساماں ہے
اُن کی مرضی ہے کہ وہ مُجھ کو رُلائیں کب تک
یا نبی گِھر کے جو آتی ہیں چمن پر میرے
کُھل کے برسیں گی وہ رحمت کی گھٹائیں کب تک
جانے کب پہنچے مدینے میں ہماری آواز
داد فریاد کی سرکار سے پائیں کب تک
اپنا بس تو نہیں تقدیر پہ لیکن آقا
تابکے رنج سہیں ٹھوکریں کھائیں کب تک
کون سُنتا ہے بہَ جُز آپ کے فریاد اپنی
سرگزشت اپنی زمانے کو سُنائیں کب تک
کب مدینے سے طلب ہو کِسے معلُوم نصیرؔ
کیا خبر اُن کے درِ ناز پہ جائیں کب تک۔۔۔!
صَلَّى ﷲُ عَلَیہِ واٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ