ساحل کی ریت چاند کے منہ پر نہ ڈالئے
ہمت جو ہو تو بحر سے موتی نکالئے
خوشبو کی طرح تھام کے چلئے ہوا کا ہاتھ
مثلِ غبار بوجھ فضا پر نہ ڈالئے
آوارہ موسموں کے بگولوں کے ساتھ ساتھ
پھرتا ہے کوئی مجھ کو ہوا در ہوا لئے
کھلتا نہیں کہ کس کے لیے سرگراں ہوں میں
قدموں میں خاک، سر پہ فلک کی ردا لئے
سایے کی طرح رینگ رہا ہوں زمین پر
گزرے ہوئے. زمانوں کی آوازِ پا لئے
اک حرف میرے کان میں کہتا ہے رات دن
مجھ کو کتابِ خاک سے باہر نکالئے
ممکن ہے کوئی شکل اُبھر آئے سامنے
آئینۂ خلا میں کوئی عکس ڈالئے
آزاد ہو سکا نہ بدن قیدِ خاک سے
ہر چند ہم نے پاؤں ہوا میں جما لئے
اک شمعِ بے نشاں کا پتہ ڈھونڈتے ہوئے
ہم نے دل و نگاہ کے سورج بجھا لئے
(نذیر قیصر)
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔