صَلَّى ﷲُ عَلَیہِ واٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اپن…

صَلَّى ﷲُ عَلَیہِ واٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ
اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
بے ٹھکانہ ہُوں ازل سے مُجھے گھر جانے دے
سُوئے بطحا لئے جاتی ہے ہوائے بطحا
بُوئے دُنیا مُجھے گمراہ نہ کر جانے دے
تیری صُورت کی طرف دیکھ رہا ہُوں آقاؐ
پُتلیوں کو اِسی مرکز پہ ٹھہر جانے دے
زِندگی گُنبدِ خضرٰی ہی تو منزِل ہے مِری
مُجھ کو ہریالیوں میں خاک بسر جانے دے
موت پر میری شہیدوں کو بھی رشک آئے گا
اپنے قدموں سے لپٹ کر مُجھے مر جانے دے
خواہشِ ذات بہت ساتھ دیا ہے تیرا
اب جِدھر میرے مُحَمّدؐ ہیں اُدھر جانے دے
روک رضواں نہ مظفؔر کو درِ جنت پر
یہ مُحَمّدؐ کا ہے منظورِ نظر جانے دے۔۔۔!
کلام مظفرؔ وارثیؒ
آواز خالد حسنین