Category: منتخب غزلیں
-
نبھے گی مری اور چارہ گروں کی کس طرح فرحت رفو کا شو…
نبھے گی مری اور چارہ گروں کی کس طرح فرحت رفو کا شوق ان کو اور مجھ کو عار دامن سے ….. نہیں کعبہ کہ تمہیں راہ کی زاہد ہو تلاش راہیں جتنی ہیں وہ سب جاتی ہیں میخانے کو ….. مرزا فرحت اللہ بیگ دہلوی دہلی، بھارت | ۱۸۸۳–۱۹۴۷
-
نہیں ہے میکدہ میں بیعتِ پیرِ مُغاں آساں ہُوا سب رہ…
نہیں ہے میکدہ میں بیعتِ پیرِ مُغاں آساں ہُوا سب رہن مئے ہم نے نہ گھر رکھا نہ دَر رکھا میر شائق حسین خان بہادر موسوی سفیر
-
شراب و شعر کے سانچے میں ڈھل کے آئی ہے یہ شام کس کی…
شراب و شعر کے سانچے میں ڈھل کے آئی ہے یہ شام کس کی گلی سے نکل کے آئی ہے سمجھ رہا ہوں سحر کے فریبِ رنگیں کو نیا لباس شبِ غم بدل کے آئی ہے ترے قدم کی بہک ہے، تری قبا کی مہک نسیم تیرے شبستاں سے چل کے آئی ہے وفا پہ…
-

رخسار کی بات۔۔۔ارشاد کاظمی تجھ سے ملکر مجھے یک لخ…
رخسار کی بات۔۔۔ارشاد کاظمی تجھ سے ملکر مجھے یک لخت یہ احساس ہوا تجھ سے تو آنکھ کی دیرینہ شناسایی ہے تو کہ اک عہد کی تاریخ کے ایوان میں ہے جھاگ میں لپٹی صنم خانہء یونان میں ہے کیٹس کی نظموں میں ہے میر کے دیوان میں ہے ہر نیے دور میں ہوتا تھا…
-

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی یہ …
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی،…
-

،،،میں،وہ اور رات،،، کمرے میں خاموشی ہے اور باہر …
،،،میں،وہ اور رات،،، کمرے میں خاموشی ہے اور باہر رات بہت کالی ہے اُونچے اُونچے پیڑوں پر سیاہی نے چھاونی ڈالی ہے تیز ہوا کہتی ہے پل میں برکھا آنے والی ہے وہ سولہ سنگار کیے اپنی ہی سوچ میں کھوئی ہوئی ہے سانسوں میں وہ گہرا پن ہے جیسے بےسُدھ سوئی ہوئی ہے دل…
-

ساغر صدیقی نکلے صدف کی آنکھ سے موتی مر ے ہوئے پُھو…
ساغر صدیقی نکلے صدف کی آنکھ سے موتی مر ے ہوئے پُھوٹے ہیں چاندنی میں شگوفے جلے ہوئے ہے اہتمامِ گریہ و ماتم چمن چمن رکھے ہیں مقتلوں میں جناز ے سجے ہوئے ہر ایک سنگِ میل ہے اب ننگِ راہگزر ہیں رہبروں کی عقل پہ پتھر پڑ ے ہوئے بے وجہ تو نہیں ہیں…
-

قتیل شفائی تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں ج…
قتیل شفائی تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے…
-

عنایتؔ علی خاں جو جمالِ روُحِ حیات تھا، جو…
عنایتؔ علی خاں جو جمالِ روُحِ حیات تھا، جو دلیلِ راہِ نجات تھا اُسی راہبر کے نقوُشِ پا کو مسافروں نے مِٹا دیا میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بِچھا دیا تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق اُلٹ…
-
خیالِ نازکی ان کا ہے میری ہر رگ و پے میں جگر بڑھ …
خیالِ نازکی ان کا ہے میری ہر رگ و پے میں جگر بڑھ بڑھ کے روکے گا جو نالہ دل سے نکلے گا ۔ مرزا فدا علی منن