پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

عنایتؔ علی خاں جو جمالِ روُحِ حیات تھا، جو…


عنایتؔ علی خاں

جو جمالِ روُحِ حیات تھا، جو دلیلِ راہِ نجات تھا
اُسی راہبر کے نقوُشِ پا کو مسافروں نے مِٹا دیا

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا
تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بِچھا دیا

تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق اُلٹ کے گزر گیا
مُجھے صِرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا

یہ میری عقیدتِ بے بصر، یہ میری ریاضتِ بے ہُنر
مُجھے میرے دعوۂ عِشق نے، نہ صنم دیا نہ خُدا دیا

تیرا نقشِ پا تھا جو رہنما، تو غبارِ راہ تھی کہکشاں
اُسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گِرا دیا

کِسی غمگُسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صِلہ دیا
کہ جو میرے غم میں گُھلا کیا اُسے میں نے دِل سے بُھلا دیا

کبھی اے عنایتؔ کم نظر ترے دِل میں یہ بھی کسَک ہوئی
جو تبسم رُخِ زیست تھا اُسے تیرے غم نے رُلا دیا

المرسل: فیصل خورشید