Category: منتخب غزلیں
-

اعزاز احمد کا یومِ پیدائش December 25, 1942 نام ا…
اعزاز احمد کا یومِ پیدائش December 25, 1942 نام اعزاز احمد اور تخلص آذر ہے۔ ۲۵؍دسمبر ۱۹۴۲ء کو بٹالہ (بھارت)میں پیدا ہوئے۔تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) ،ایم اے (پنجابی) اور ایم اے (سیاسیات) کے علاوہ ایجوکیشن اور قانون کی ڈگریاں حاصل کیں۔کچھ عرصہ شعبہ تدریس سے اور کچھ…
-

صہبا لکھنوی کی پیدائش Dec 25, 1919 اردو کے ممتاز …
صہبا لکھنوی کی پیدائش Dec 25, 1919 اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہنامہ افکار کے مدیر صہبا لکھنوی کا اصل نام سید شرافت علی تھا۔ ان کا آبائی وطن لکھنؤ تھا تاہم وہ 25 دسمبر 1919ء کو ریاست بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بھوپال، لکھنؤ اور بمبئی سے تعلیمی مدارج طے کئے…
-

طرفہ قریشی عشق میں ہر تمنائے قلب حزیں سرخ آنسو بہا…
طرفہ قریشی عشق میں ہر تمنائے قلب حزیں سرخ آنسو بہائے تو میں کیا کروں ناامیدی ہمہ وقت امید کے حاشیوں کو مٹائے تو میں کیا کروں اس کے رخسار صبح درخشاں سہی اس کی زلفوں میں شام غریباں سہی دھوپ اور چھاؤں کی طرح وہ خود نگر سامنے میرے آئے تو میں کیا کروں…
-

سیف زلفی کا یومِ وفات May 21, 1991 نام سید محمد ذ…
سیف زلفی کا یومِ وفات May 21, 1991 نام سید محمد ذوالفقار حسین رضوی اور تخلص زلفی تھا۔ ۲۵؍دسمبر ۱۹۳۴ء کو بریلی میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے اور لاہور میں قیام پذیر ہوئے۔۲۱؍مئی ۱۹۹۱ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کا شعری مجموعہ’’لہو چاند اور سویرا‘‘ کے نام سے شائع ہوگیا…
-

یہ چاند تارے کا جھلملاتا پرچم ہمارا پرچم، یہ پیارا…
یہ چاند تارے کا جھلملاتا پرچم ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم یہ پرچموں میں عظیم پرچم عطاۓ ربِ کریم پرچم، ہمارا پرچم ہماری عظمت کا پاسباں ہے ہماری ملت کا ترجماں ہے ہمارے احساس کا بیاں ہے ہماری رفعت کا آسماں ہے عظیم ملت، عظیم پرچم عطاۓ ربِ کریم پرچم ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم…
-

تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا …
تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا اعزاز احمد آذر تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا مرے اندھیروں کی فکر چھوڑو بس اپنے گھر کا خیال رکھنا اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ فصل بوئی تھی چاندنی کی اب اس میں اگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی میں…
-

امجد اسلام امجد کی نظم "آخری چند دن دسمبر کے” آخر…
امجد اسلام امجد کی نظم "آخری چند دن دسمبر کے” آخری چند دن دسمبر کے ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں خواہشوں کے نگار خانے میں کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی ایک محفل سی دل میں سجتی ہے فون کی ڈائری کے صفحوں سے کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے جن سے…
-

رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح چاند نکلا ہے …
رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرح خشک پتوں کی طرح لوگ اڑے جاتے ہیں شہر بھی اب تو نظر آتا ہے جنگل کی طرح پھر خیالوں میں ترے قرب کی خوشبو جاگی پھر برسنے لگی آنکھیں مری بادل کی طرح بے وفاؤں سے وفاء کر…
-

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو سدرشن فاخر یہ …
یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو سدرشن فاخر یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو بھلے چھین لو مجھ سے سے میری جوانی مگر مجھ کو لوٹا دو وہ بچپن کا ساون وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی…
-

ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں یہ فرصتیں ہمیں…
ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں خالد شریف ……. غیر ممکن ہے تیرے غم کو منجمد کر دے رگوں میں خون جماتا یہ دسمبر جاناں…. عنبرین_خان …… پچھلے دسمبر میں جو خواب دیکھے تھے اب کے دسمبر میں اس کے عذاب دیکھے ہیں شاعر نامعوم…