Category: منتخب غزلیں
-

مرزا اسداللہ خاں غالب یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصا…
مرزا اسداللہ خاں غالب یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا تِرے وعدے پر جِئے ہم، تو یہ جان، جُھوٹ جانا کہ خوشی سے مرنہ جاتے، اگراعتبار ہوتا تِری نازُکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بُودا کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگراستوار ہوتا کوئی میرے…
-
ہر ایک درد کو حرفِ غزل بنا دوں گا چلا تو ہوں کہ…
ہر ایک درد کو حرفِ غزل بنا دوں گا چلا تو ہوں کہ تری رہ گزر دکھا دوں گا غمِ حیات!! مرے ساتھ ساتھ ہی رہنا پیمبری سے ترا سلسلہ ملا دوں گا اگر وہاں بھی تری آہٹیں نہ سن پاؤں تو آرزو کی حسیں بستیاں جلا دوں گا نہ انتظار، نہ آہیں، نہ بھیگتی…
-

خمسہ چمن میں دن کو جو اِک دو قدم وہ چلتے ہیں تو پ…
خمسہ چمن میں دن کو جو اِک دو قدم وہ چلتے ہیں تو پُھول آنکھوں سے تلوے اُنھوں کے ملتے ہیں خوشی سے غنچے بھی ہر شاخ پر اُچھلتے ہیں وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیں تو مہ کے طشت میں گھی کے چراغ جلتے ہیں میر تقی میرّ
-

محسؔن زیدی کوئی پیکر ہے، نہ خُوشبو ہے، نہ آ…
محسؔن زیدی کوئی پیکر ہے، نہ خُوشبو ہے، نہ آواز ہے وہ ہاتھ لگتا ہی نہیں، ایسا کوئی راز ہے وہ ایک صُورت ہے جو مِٹتی ہے، بَنا کرتی ہے کبھی انجام ہے میرا، کبھی آغاز ہے وہ اُس کو دُنیا سے مِری طرح ضَرر کیوں پُہنچے میں زمانے کا مُخالِف ہُوں، جہاں ساز ہے…
-

فیاض ہاشمی یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران …
فیاض ہاشمی یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان تیرا احسان ہے تیرا احسان ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی اور نعرہ…
-

جِس نے مِرے دِل کو درد دِیا اُس شکل کو مَیں نے بُھ…
جِس نے مِرے دِل کو درد دِیا اُس شکل کو مَیں نے بُھلایا نہیں اِک رات کِسی برکھا رُت کی کبھی دِل سے ہمارے مِٹ نہ سکی بادل میں جو چاہ کا پُھول کھِلا وہ دُھوپ میں بھی کُمھلایا نہیں جِس نے مِرے دِل کو درد دِیا اُس شکل کو مَیں نے بُھلایا نہیں کجرے…
-
” بھیگی جنوری ” وہی گلیاں، وہی کوچے وہی سردی کا م…
” بھیگی جنوری ” وہی گلیاں، وہی کوچے وہی سردی کا موسم ہے اسی انداز سے اپنا نظامِ زیست برہم ہے یہ حسنِ اتفاق ایسا کہ پھیلی چاندنی بھی ہے وہی ہر سمت ویرانی، اداسی، تشنگی سی ہے وہی ہے بھیڑ سوچوں کی، وہی تنہائیاں پھر سے مسافر اجنبی اور دشت کی پہنائیاں پھر سے…
-

مرزا غالبؔ کے فارسی شعر کا منظوم اردو ترجمہ ڈاکٹر …
مرزا غالبؔ کے فارسی شعر کا منظوم اردو ترجمہ ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی فارسی دیکھو جو چاہونقش ہائے رنگ رنگ چھوڑو اردو کو کہ یہ بے رنگ ہے میرا کلام ترجمۂ شعر غالبؔ : مترجم احمد علی برقیؔ اعظمی فارسی بین تا ببینی نقش ھای رنگ رنگ بگذر از مجموعۂ اردو کہ بی رنگِ…
-
ترے نواح میں رہا مگر میان دین و دل گجر بجا تو جی ا…
ترے نواح میں رہا مگر میان دین و دل گجر بجا تو جی اٹھا، سنی اذاں تو مر گیا علی اکبر ناطق
-

قائد ؒکے حضور بے اثر ہو گئے سب حرف و نوا تیرے بعد …
قائد ؒکے حضور بے اثر ہو گئے سب حرف و نوا تیرے بعد کیا کہیں دِل کا جو احوال ہُوا تیرے بعد تُو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے ایسی بدلی ترے کُوچے کی فِضا تیرے بعد اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی ہم سے اِک خواب سنبھالا نہ گیا…