محسؔن زیدی​ کوئی پیکر ہے، نہ خُوشبو ہے، نہ آ…


محسؔن زیدی​

کوئی پیکر ہے، نہ خُوشبو ہے، نہ آواز ہے وہ
ہاتھ لگتا ہی نہیں، ایسا کوئی راز ہے وہ​

ایک صُورت ہے جو مِٹتی ہے، بَنا کرتی ہے
کبھی انجام ہے میرا، کبھی آغاز ہے وہ​

اُس کو دُنیا سے مِری طرح ضَرر کیوں پُہنچے
میں زمانے کا مُخالِف ہُوں، جہاں ساز ہے وہ​

لوگ اُس کے ہی اِشاروں پہ اُڑے پِھرتے ہیں
بال و پر دیکھے کے ہیں، قوّتِ پرواز ہے وہ​

پتّھروں پر بھی، جو قدموں کے نِشاں ثبت کرے
صاحبِ کشف ہے وہ، صاحبِ اعجاز ہے وہ​

سوچ کر اُس سے مِلو ! وہ میرا ہمزاد سہی
سِحر کر دیتا ہے ذہنوں پہ، فزُوں ساز ہے وہ​

اِک کھنڈر ،جس سے کوئی اب تو گُزرتا بھی نہیں
اپنے ماضی کے حَسِیں دَور کا غمّاز ہے وہ​

کیوں نہ محسؔن، اُسے سینے سے لگائے رکھّوں
میرے ہی ٹُوٹے ہُوئے ساز کی آواز ہے وہ

المرسل: فیصل خورشید