Category: منتخب غزلیں
-

مکینوں کو ترستا ہر مکاں ہے مگر اب شہر میں امن و ام…
مکینوں کو ترستا ہر مکاں ہے مگر اب شہر میں امن و اماں ہے لُٹی کیوں دِن دہاڑے گھر کی پونجی جو اِس گھر کا مُحافظ تھا کہاں ہے؟ فسانے گڑھ رہا ہے جھوٹ اُن کا مگر میری صداقت بے زباں ہے میں تیر انداز سمجھا جا رہا ہوں مرے ہاتھوں میں اِک ٹوٹی کماں…
-

خواجہ الطاف حسین حالی کی چند رباعیات ….. پستی کا…
خواجہ الطاف حسین حالی کی چند رباعیات ….. پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے اسلام کا گِر کر نہ ابھرنا دیکھے مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے ….. ہے عشق طبیب دل کے بیماروں کا یا گھر ہے وہ خود ہزار آزاروں کا ہم…
-

-

احمد فرازؔ طعنہ زن کیوں ہے مِری بے سَروسامانی پر …
احمد فرازؔ طعنہ زن کیوں ہے مِری بے سَروسامانی پر اِک نظر ڈال ذرا شہر کی وِیرانی پر واعظو! میں نے بھی اِنساں کی عِبادت کی ہے پر کوئی نقش نہیں ہے مِری پیشانی پر اُن کے ملبوُس میں پَیوند مِرے جسم کے ہیں اور یاروں کی نَظر ہے مِری عُریانی پر وقت رُکتا ہی…
-

-

-
شبِ ہجر کی انتہا ہی نہیں کوئی اِس سے بڑھ …
شبِ ہجر کی انتہا ہی نہیں کوئی اِس سے بڑھ کر بلا ہی نہیں گیا اس طرح دل کہ تھا ہی نہیں کوئی زندگی کا مزا ہی نہیں سکھاتے دعا کے وہ آداب کیوں کہ جب اُن کو سُننا دعا ہی نہیں خدا جانے جیتے ہیں ہم کس لیے کچھ اُن سے تو آسرا ہی…
-

کیسا لمحہ تھا جو چلے تھے خوشبو سے منہ موڑ کے ہم صح…
کیسا لمحہ تھا جو چلے تھے خوشبو سے منہ موڑ کے ہم صحرا میں آ نکلے ہیں پھولوں کی بستی چھوڑ کے ہم روح سے روح ملی تھی جس دم، اُس لمحے کے اسیر ہوئے ہاتھ سے ہاتھ جہاں چُھوٹا تھا پتّھر ہیں اُس موڑ کے ہم کس کس سے کیا عہد کیا تھا ہم…
-

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے رات دن صورت کو دیکھ…
وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے رات دن صورت کو دیکھا کیجئے چاندنی راتوں میں اک اک پھول کو بے خودی کہتی ہے سجدہ کیجئے جو تمنا بر نہ آئے عمر بھر عمر بھر اس کی تمنا کیجئے عشق کی رنگینیوں میں ڈوب کر چاندنی راتوں میں رویا کیجئے پوچھ بیٹھے ہیں ہمارا حال…
-
روگ تیرے عشق کا جاتا نہیں یہ مرض ہے لا دوا جاتا ن…
روگ تیرے عشق کا جاتا نہیں یہ مرض ہے لا دوا جاتا نہیں موت ہی کو بھیج دو شامِ فراق ہم سے اب تنہا رہا جاتا نہیں کیا شکایت لب تک آئے غیر کی دھیان دل سے آپ کا جاتا نہیں عشق میں ہے یہ ترقی ضعف کی بیٹھ کر ہم سے اُٹھا جاتا نہیں…