اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

روگ تیرے عشق کا جاتا نہیں یہ مرض ہے لا دوا جاتا ن…


روگ تیرے عشق کا جاتا نہیں
یہ مرض ہے لا دوا جاتا نہیں

موت ہی کو بھیج دو شامِ فراق
ہم سے اب تنہا رہا جاتا نہیں

کیا شکایت لب تک آئے غیر کی
دھیان دل سے آپ کا جاتا نہیں

عشق میں ہے یہ ترقی ضعف کی
بیٹھ کر ہم سے اُٹھا جاتا نہیں

شوق دوڑاتا ہے اُن کو منزلوں
دو قدم جن سے چلا جاتا نہیں

حالِ غم یہ ہے کہ اپنے حال پر
ہنستے ہیں لیکن ہنسا جاتا نہیں

پوچھتے ہیں وہ مریضِ غم کا حال
کہنے والے سے کہا جاتا نہیں

مٹ گئے راغب ہزاروں عشق میں
تجھکو دعویٰ ہے مٹا جاتا نہیں

راغب بدایونی

از:-کلیاتِ راغب بدایونی ص ۱۴۹/۱۵۰

انتخاب
سفیدپوش

فاروق کوہاوڑ