Category: منتخب غزلیں
-

تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر (نظم) از مرزا اسد اللہ …
تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر (نظم) از مرزا اسد اللہ خان غالب گھستے گھستے پاؤں کی زنجیر آدھی رہ گئی مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی سب ہی پڑھتا کاش، کیوں تکبیر آدھی رہ گئی "کھنچ کے، قاتل! جب تری شمشیر آدھی رہ گئی غم سے جانِ عاشقِ دل گیر آدھی…
-

ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی دل ایوبی ڈھن…
ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی دل ایوبی ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی ہم نے تو جرم محبت کی سزا مانگی تھی کیا خبر تھی کہ اندھیروں کو بھی شرما دیں گے جن اجالوں کے لئے ہم نے دعا مانگی تھی عشق میں راز بقا کیا ہے خبر…
-

ﻧﺼﯿﺮؔ ﺗﺮﺍﺑﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺍُﺱ ﺑﺎﻡ ﮐﻮ …
ﻧﺼﯿﺮؔ ﺗﺮﺍﺑﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺍُﺱ ﺑﺎﻡ ﮐﻮ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺯﺍﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺩِﻝ ﮐﮯﺳﺐ ﻧﻘﺶ ﺗﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﮑﯿﺮﻭﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﻧﻘﺶِ ﭘﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﺗﮭﺎ ﻣﭩﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ تھی کبھی راہ جو ہمراہ گُزرنے والی اب حذر ہوتا ہے اس راہ سے آتے جاتے ﺷﮩﺮِ ﺑﮯ ﻣﮩﺮ ﮐﺒﮭﯽ…
-
رات بھی باقی ہے صہبا بھی شیشہ بھی پیمانہ بھی ایسے …
رات بھی باقی ہے صہبا بھی شیشہ بھی پیمانہ بھی ایسے میں کیوں چھیڑ نہ دیں ہم ذکرِ غمِ جانانہ بھی بستی میں ہر اک رہتا ہے اپنا بھی بے گانہ بھی حال کسی نے پوچھا دل کا درد کسی نے جانا بھی ہائے تجاہل آج ہمیں سے پوچھ رہے ہیں اہلِ خِرد سنتے ہیں…
-

"کیسی کیسی محفلیں سُونی ہوئیں پھر بھی دنیا کس قدر …
"کیسی کیسی محفلیں سُونی ہوئیں پھر بھی دنیا کس قدر آباد ہے” یومِ ولادت جناب سحرؔ انصاری (ولادت: 27 دسمبر 1941ء) پروفیسر سحرؔ انصاری کااصلی نام ’انور مقبول انصاری‘ ہے ۔ سحرؔ تخلص کرتے ہیں،اپنے نام اور تخلص کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ’ ’میٹرک کے سرٹیفیکیٹ او ر بعد کی تعلیمی اسناد…
-

-

وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں بہت مغرور ہوتے …
وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں بہت مغرور ہوتے جا رہے ہیں بس اِک ترکِ محبّت کے ارادے ہمیں منظور ہوتے جا رہے ہیں مناظر تھے جو فردوسِ تصوّر وہ سب مستور ہوتے جا رہے ہیں بدلتی جا رہی دل کی دُنیا نئے دستور ہوتے جا رہے ہیں بہت مغموم تھے جو دیدہ…
-

شب چراغ کر مجھ کو اے خدا اندھیرے میں شبنم رومانی ش…
شب چراغ کر مجھ کو اے خدا اندھیرے میں شبنم رومانی شب چراغ کر مجھ کو اے خدا اندھیرے میں سانپ بن کے ڈستا ہے راستہ اندھیرے میں آئینہ اجالا ہے ذات کا حوالہ ہے پھر بھی کس نے دیکھا ہے آئینہ اندھیرے میں لیکن اب بھی روشن ہیں خواب میری آنکھوں کے چاند تو…
-

(حضرت نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالب…
(حضرت نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالب رحمتہ اللہ علیہ) منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی اپنا بیان حسنِ طبیعت نہیں مجھے سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلحِ کل ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے…
-

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو اشکِ رواں کی …
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو اشکِ رواں کی نہر ھے اور ھم ھیں دوستو یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد تنہائیوں کا زہر ھے اور ھم ھیں دوستو لائی ھے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس برکھا کی رت کا قہر ھے اور ھم ھیں دوستو پھرتے…