Category: منتخب غزلیں
-

نام محمد عبد الحمید صدیقی، تخلص نظرؔ لکھنوی 3 جولا…
نام محمد عبد الحمید صدیقی، تخلص نظرؔ لکھنوی 3 جولائی 1927ء کو لکھنؤ موضع ‘چنہٹ ‘میں پیدا ہوئے۔ ہائی سکول کی تعلیم موضع اُترولہ ضلع گونڈہ سے 1944ء میں مکمل کی اور 1945ء میں ملٹری اکائونٹس لکھنؤ میں ملازم ہو گئے۔ دسمبر 1947ء کو پاکستان ہجرت کی اور ملٹری اکائونٹس راولپنڈی میں تعینات ہوئے۔ اس…
-
پردہ بہ پردہ جلوہ بہ جلوہ جانِ حیا کی بات چلی خلوت…
پردہ بہ پردہ جلوہ بہ جلوہ جانِ حیا کی بات چلی خلوتِ دل سے بزمِ نظر تک ایک فضا کی بات چلی دونوں طرف سے اپنے اپنے حسن و ادا کی بات چلی ہم سے وفا کا نام چلا ہے تم سے جفا کی بات چلی رنگ فشاں ہے بات وہ دل کی آج بهی…
-
اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو پر وقت کا اب بھی …
اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو ابن انشا
-

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو ابن…
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو ابن انشا دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیاس کے دونو پیاسے ہیں ہم…
-

-
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برک…
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ ناصر کاظمی
-

-

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا …
کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا امجد اسلام امجد کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں دل بے خبر مری…
-
جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے وہ…
جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے وہ نظر نظر سے گلے ملے تو بجھے چراغ بھی جل گئے یہ شکستِ دید کی کروٹیں بھی بڑی لطیف و جمیل تھیں میں نظر جھکا کے تڑپ گیا، وہ نظر بچا کے نکل گئے نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار…
-

مدینہ پہنچ کر سرعام کہیو صباکملی والے سے پیغام کہ…
مدینہ پہنچ کر سرعام کہیو صباکملی والے سے پیغام کہیو طبعیت اندھیروں سے اکتاگئی ہے بہت دن سے ہے شام ہی شام کہیو خزان بھی گزاری بہاریں بھی دیکھیں ملاکوئی کروٹ نہ آرام کہیو یہ اشعاران سے نہایت ادب سے نگاہیں جھکاکر اوردل تھام کہیو وہ خود ہی نہ دریافت فرمائیں جب تک تخلص نہ…