Category: منتخب غزلیں
-
نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے زمانہ نام گزرن…
نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے زمانہ نام گزرنے کا ہے گزرتا ہے وہ میری جان کا دشمن سہی مگر صیاد مری کہی ہوئی باتوں پہ کان دھرتا ہے ہمیں ہیں وہ جو امید فنا پہ جیتے ہیں زمانہ زندگیٔ بے بقا پہ مرتا ہے ابھی ابھی در زنداں پہ کون کہتا تھا…
-

-

منشی نول کشور کی ولادت January 03, 1836 منشی نول …
منشی نول کشور کی ولادت January 03, 1836 منشی نول کشور کی ولادت 3 جنوری 1836 کو متھرا میں ہوئی ۔منشی نول کشور کے والد کانام پندت جمونا پرساد بھگاو کاتھا، ان کے والد علی گڑھ کے زمیندار تھے ۔آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز مکتب میں فارسی اور اردو پڑھ کر کیا تھا۔منشی نول…
-

صفی لکھنوی کی پیدائش Jan 03, 1862 سید علی نقی نام…
صفی لکھنوی کی پیدائش Jan 03, 1862 سید علی نقی نام۔ صفی تخلص، تاریخ ولادت ۳ جنوری ۱۸۶۲ء مطابق یکم رجب ۱۲۷۸ھ اور قدیم وطن لکھنو ہے۔ والد مولوی سید فضل حسین آخری تاجدار اودھ کے بھائی شاہزادہ سلیمان قدر بہادر کے معتمد تھے۔ ۵ سال کی عمر میں مکتب نشیں ہوئے اور مولوی نجم…
-

علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ سے غلط طور پر منسوب اشع…
علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ سے غلط طور پر منسوب اشعار ….. سجدہ عشق ہو تو عبادت میں مزہ آتا ہے خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے لوگ کہتے ہیں کہ بس فرض ادا کرنا ہے ایسا لگتا ہے کوئی قرض لیا ہو رب سے تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کردیں…
-

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے صفی لکھ…
وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے صفی لکھنوی وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے شب فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے الٰہی خیر ہو الجھن پہ الجھن بڑھتی جاتی ہے نہ میرا دم نہ ان کے گیسوؤں کا خم نکلتا ہے قیامت ہی نہ…
-

سو بار اگر تم روٹھ گئے ، ہم تم کو منا ہی لیتے تھے …
سو بار اگر تم روٹھ گئے ، ہم تم کو منا ہی لیتے تھے ایک بار اگر ہم روٹھ گئے ، تم ہم کو منانا کیا جانو رضی اختر شوق
-

صفی لکھنوی کی پیدائش Jan 03, 1862 غزل اُس نے چھیڑ…
صفی لکھنوی کی پیدائش Jan 03, 1862 غزل اُس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا === تیری قسمت میں جب اے دل ہے پریشاں ہونا خاک ہونا بھی تو خاکِ درِ جاناں ہونا === پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے
-
ئے سال کی سچی نظم – مسعود عابد اکیلوی جانے کتنے ہ…
ئے سال کی سچی نظم – مسعود عابد اکیلوی جانے کتنے ہی برس بیت گئے ہر نئے سال کی آمد سے ادھر اپنے اس پیارے وطن کی خاطر میں نے کچھ گیت لکھے تھے اور نظمیں بھی لکھی تھیں کئی یکجہتی پر امن کے خواب بھی دیکھے تھے کئی سال جب ختم ہوا خواب سب…
-
اگر تھا دل پہ داغِ عشق کوہِ طور پر جا کر کیا کیوں…
اگر تھا دل پہ داغِ عشق کوہِ طور پر جا کر کیا کیوں ڈھونڈنے پر موسیٰ نے آہنگ آتش کا مرزا محمد رفیع سودا دہلوی