Category: منتخب غزلیں
-

امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد ک…
امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء جلیل مانک پوری آپ چھو دیکھیں کسی غنچے کو اپنے ہاتھ سے غنچہ گل ہو جائے گا اور گل چمن ہو جائے گا ….. آیا نہ پھر کے ایک بھی کوچے سے یار کے قاصد گیا نسیم گئی نامہ بر گیا ….. اب…
-
چشمِ باطن کو بروئے کار جب لاتا ہوں میں وہ کہیں…
چشمِ باطن کو بروئے کار جب لاتا ہوں میں وہ کہیں بھی ہوں،نظر کے سامنے پاتا ہوں میں اس لیے ہر ظلم خاموشی سے سہ جاتا ہوں میں یہ نہ سمجھیں وہ کہ ان کے غم سے گھبراتا ہوں میں فکرِ دنیا ہو، غمِ عقبیٰ ہو، دردِ عشق ہو غم کا ہر نغمہ رُبابِ عشق…
-
شہر کو تیری جُستجُو ہے بہت ان دنوں ہم پہ گفتگو ہے…
شہر کو تیری جُستجُو ہے بہت ان دنوں ہم پہ گفتگو ہے بہت جب سے پرواز کے شریک ملے گھر بنانے کی آرزُو ہے بہت درد رہ رہ کے سر اُٹھاتا ہے کبھو کم ہو گیا، کبھو ہے بہت کچھ تو وہ یاد بھی بہت آیا کچھ اِن آنکھوں میں بھی لہو ہے بہت پینے…
-

منزلیں ایک سی آوارگیاں ایک سی ہیں مختلف …
منزلیں ایک سی آوارگیاں ایک سی ہیں مختلف ہو کے بھی سب زندگیاں ایک سی ہیں کوئی قاصد ہو کہ ناصح، کوئی عاشق کہ عدو سب کی اُس شوخ سے وابستگیاں ایک سی ہیں دشتِ مجنوں میں نہ سہی تیشۂ فرہاد سہی سفرِ عشق میں واماندگیاں ایک سی ہیں یہ الگ بات کہ احساس جُدا…
-
” ایک خواب اور ” خواب اب حُسنِ تصوّر کے افق سے ہی…
” ایک خواب اور ” خواب اب حُسنِ تصوّر کے افق سے ہیں پرے دل کے اک جذبۂ معصوم نے دیکھے تھے جو خواب اور تعبیروں کے تپتے ہوئے صحراؤں میں تشنگی آبلہ پا، شعلہ بکف موجِ سراب یہ تو ممکن نہیں بچپن کا کوئی دن مل جائے یا پلٹ آئے کوئی ساعتِ نایابِ شباب…
-
میں تو۔مجبور سہی ﷲ تو مجبور نہیں تجھ سے میں دور سہ…
میں تو۔مجبور سہی ﷲ تو مجبور نہیں تجھ سے میں دور سہی وہ تو مگر دور نہیں تیری صحت ہمیں منظور ہے لیکن اس کو نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں مولانا محمد علی جوہر …. قید کے دوران ان کی بیٹی آمنہ اس طور پر علیل ہوگئیں کہ زندگی کی امیدیں…
-
صبح کا افسانہ کہہ کر شام سے کھیلتا ہوں گردش …
صبح کا افسانہ کہہ کر شام سے کھیلتا ہوں گردش ایام سے اُن کی یاد اُن کی تمنا اُن کا غم کٹ رہی ہے زندگی آرام سے عشق میں آئیں گی وہ بھی ساعتیں کام نکلے گا دلِ ناکام سے لاکھ میں دیوانۂ رسوا سہی پھر بھی اک نسبت ہے تیرے نام سے صبح گلشن…
-
تیری یادوں سے دل فروزاں کریں گے پھر اس غم کدے میں …
تیری یادوں سے دل فروزاں کریں گے پھر اس غم کدے میں چراغاں کریں گے ذرا حضرت دل کی جرأت تو دیکھو یہ نظارہ حُسن جاناں کریں گے زمانہ جو آتش فشاں ہے تو کیا غم ہم آتش کدے کو گلستاں کریں گے چلے تو ذرا دور جامِ محبت فرشتے بھی تقلیدِ انساں کریں گے…
-

شکوہ بہ طرزِ عام نہیں آپ سے مجھے ناکام ہ…
شکوہ بہ طرزِ عام نہیں آپ سے مجھے ناکام ہوں کہ کام نہیں آپ سے مجھے کہتا، سلوک آپ کے ایک ایک سے مگر مطلوب انتقام نہیں آپ سے مجھے اے مُنصفو حقائق و حالات سے الگ کچھ بحث خاص و عام نہیں آپ سے مجھے یہ شہرِ دل ہے شوق سے رہیئے یہاں مگر…
-
