میں تو۔مجبور سہی ﷲ تو مجبور نہیں
تجھ سے میں دور سہی وہ تو مگر دور نہیں
تیری صحت ہمیں منظور ہے لیکن اس کو
نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں
مولانا محمد علی جوہر
….
قید کے دوران ان کی بیٹی آمنہ اس طور پر علیل ہوگئیں کہ زندگی کی امیدیں ٹوٹنے لگیں، مولانا کو برابر خبریں مل رہی تھیں، چاہتے تو پیرول پر رہائی کے لئے اپیل کرسکتے تھے، ممکن تھا کہ حکومت اپیل منظور کرلیتی لیکن غیرت نے گوارہ نہ کیا، صبر کا دامن تھامے رکھا اور عزلمیت و استقامت کی تاریخ میں ابدی جگہ پالی۔ یہ شعر اسی دور کا ہے:
تسلیم و رضا کے اس پیکر نے قید کے دوران ہی آمنہ کی وفات کی جگر پاش خبر سن لی، جانے دل پر کیا گزری ہوگی، میر تقی میر کا یہ شعر شاید ایسے ہی عشاق کی بہت عمدہ ترجمانی کرتا ہے:
پاس ناموسِ عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔