شہر کو تیری جُستجُو ہے بہت ان دنوں ہم پہ گفتگو ہے…
شہر کو تیری جُستجُو ہے بہت
ان دنوں ہم پہ گفتگو ہے بہت
جب سے پرواز کے شریک ملے
گھر بنانے کی آرزُو ہے بہت
درد رہ رہ کے سر اُٹھاتا ہے
کبھو کم ہو گیا، کبھو ہے بہت
کچھ تو وہ یاد بھی بہت آیا
کچھ اِن آنکھوں میں بھی لہو ہے بہت
پینے والی نگاہ ہے درکار
آنکھ کو چاند کا سبو ہے بہت
محترمہ سیّدہ پروین شاکر
از:-صَد برگ ص ۵۵
انتخاب
سفیدپوش