Category: منتخب غزلیں
-

ابن انشا کی "اردو کی آخری کتاب” سے چند تحریریں ۔۔۔…
ابن انشا کی "اردو کی آخری کتاب” سے چند تحریریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا تمھارا خدا بادشاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی ملک میں ایک تھا بادشاہ۔ بڑا دانشمند،مہربان اور انصاف پسند۔اس کے زمانے میں ملک نے بہت ترقی کی اور رعایا اس کو بہت پسند کرتی تھی۔اس بات کی شہادت نہ صرف اس زمانے کے محکمہ اطلاعات کے کتابچوں…
-

-
شاد لکھنوی وصال یار سے دونا ہوا عشق مرض بڑھتا گیا…
شاد لکھنوی وصال یار سے دونا ہوا عشق مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی …. نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے …. پانی پانی ہو خجالت سے ہر اک چشم حباب جو مقابل ہو مری اشک بھری آنکھوں سے …. جب…
-

ہر وقت یونہی شعر سنائے نہیں جاتے بے وجہ خزانے ت…
ہر وقت یونہی شعر سنائے نہیں جاتے بے وجہ خزانے تو لٹائے نہیں جاتے پانی کی ضرورت ہے محبت کے شجر کو پتھر پہ کبھی پیڑ اگائے نہیں جاتے احساس اگر ہو تو وفا پھولے پھلے گی دستور محبت کے سکھائے نہیں جاتے اپنے تو کسی درد کا احساس نہیں ہے دل میں ہیں سبھی…
-
کلام لعل قلندر کبریا ~ نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دی…
کلام لعل قلندر کبریا ~ نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم نہیں جانتا کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں رقص کر رہا ہوں، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے رقص کر رہا ہوں۔ بیا جاناں…
-

پہلو میں دل ہے دل میں تمنائے یار ہے آئینہ ہے ج…
پہلو میں دل ہے دل میں تمنائے یار ہے آئینہ ہے جہاں وہیں آئینہ دار ہے چکر میں ہے سوار جو اس پر سوار ہے کیا تیزگام ابلق لیل و نہار ہے آہٹ پہ کان در پہ نظر بار بار ہے کچھ خیر تو ہے کس کا تمہیں انتظار ہے اک میں کہ مجھ سے…
-
وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھا میں اک چراغ کی …
وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھا میں اک چراغ کی لو سے لپٹنے والا تھا بہت بکھیرا مجھے مرے مہربانوں نے مرا وجود ہی لیکن سمٹنے والا تھا بچا لیا تری خوشبو کے فرق نے ورنہ میں تیرے وہم میں تجھ سے لپٹنے والا تھا اسی کو چومتا رہتا تھا وہ، کہ اس…
-

جیسے سچ مُچ اُسی کو دیکھا ہے اس کی آواز ہے کہ …
جیسے سچ مُچ اُسی کو دیکھا ہے اس کی آواز ہے کہ چہرہ ہے جس نے چاہا ہے خود کو چاہا ہے میں بھی جھوٹا ہوں تو بھی جھوٹا ہے باہیں پھیلا رہے ہو کس کے لئے وہ تو خوشبو کا ایک جھونکا ہے جِس کی خاطر صبا ہے آوارہ میرے انفاس میں وہ مہکا…
-

ﺩِﻝ ﮐﮧ ﺗﮭﺎ ﺩﺭﺩ ﺁﺷﻨﺎ ﺗﻨﮩﺎ ﺟﻞ ﺑُﺠ…
ﺩِﻝ ﮐﮧ ﺗﮭﺎ ﺩﺭﺩ ﺁﺷﻨﺎ ﺗﻨﮩﺎ ﺟﻞ ﺑُﺠﮭﺎ ﺍِﮎ ﭼﺮﺍﻍ ﺗﻨﮩﺎ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺍُﻣﯿﺪﯾﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺗُﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﺻﺒﺎ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺑﯿﮑﺮﺍﮞ ﺧﻤﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺖ ﺑُﻨﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﺗﻨﮩﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﻌﺎﺭ ﮨﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﻮﮞ ﻭﻓﺎ ﺗﻨﮩﺎ ﺩﺷﺖ ﺳﺎ ﺩﺷﺖِ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺭﺳﺎؔ ﭘﮭِﺮ ﺭﮨﺎ…
-

تیری چاہت کی صلیبوں سے اُتارے ہوئے لوگ در بدر پھرت…
تیری چاہت کی صلیبوں سے اُتارے ہوئے لوگ در بدر پھرتے ہیں تنہائی کے مارے ہوئے لوگ اب بھی شاداب ہیں ہم، تیری محبت کے طفیل ایسے ہوتے تو نہیں ہجر گزارے ہوئے لوگ ورنہ تو گردِ زمانہ میں دبے رہتے ہیں زیست کے آئینہ خانوں میں سنوارے ہوئے لوگ جتنی دوری میں کشش ہے…