پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

جیسے سچ مُچ اُسی کو دیکھا ہے اس کی آواز ہے کہ …


جیسے سچ مُچ اُسی کو دیکھا ہے
اس کی آواز ہے کہ چہرہ ہے

جس نے چاہا ہے خود کو چاہا ہے
میں بھی جھوٹا ہوں تو بھی جھوٹا ہے

باہیں پھیلا رہے ہو کس کے لئے
وہ تو خوشبو کا ایک جھونکا ہے

جِس کی خاطر صبا ہے آوارہ
میرے انفاس میں وہ مہکا ہے

اے بہارو بتاؤ اب کی برس
اس کے چہرے کا رنگ کیسا ہے

وصل اس کا نہ جانے کیا ہوگا
ہجر جس کا وصال جیسا ہے

سو انگ اتنے بھرے کہ بُھول گیا
میرا اپنا بھی ایک چہرہ ہے

اُس سے بھی میری تشنگی نہ بجھی
وہ جو اک بے کنار دریا ہے

دشتِ غربت بھی میرے ساتھ اُمید
میرے ہی گھر میں سانس لیتا ہے

اُمید فاضلی

از:-دریا آخر دریا ہے ص ۴۳/۴۴

انتخاب
سفیدپوش