Category: منتخب غزلیں
-

تیرے ہوتے ہُوئے مَحفِل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا …
تیرے ہوتے ہُوئے مَحفِل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سُورج کو دِکھاتے ہیں چراغ اپنی محرُومی کے اِحساس سے شرمِندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بُجھاتے ہیں چراغ بستیاں دُور ہُوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دم بہ دم آنکھوں سے چُھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر اُن کو کہ…
-

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا ہر شاخ…
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شوقؔ بہرائچی کا یومِ وفات January 13, 1964 شوق بہرائچی جنکا پورا نام سید ریاست حسین رضوی تھا کی پیدائش اجودھیاضلع فیض آباد کے محلہ سیدواڑا میں ایک زمیندار طبقہ سے تعلق رکھنے…
-

پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں ساغرؔ اعظ…
پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں ساغرؔ اعظمی پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں شیشے کے ہیں دروازے پتھر کی دکانوں میں کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہو کیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں بس ایک ہی ٹھوکر سے گر جائیں گی دیواریں آہستہ ذرا…
-

رام ریاض جو برق و باد پروں سے نکال دیتے ہیں ہم ان…
رام ریاض جو برق و باد پروں سے نکال دیتے ہیں ہم ان کو ہم سفروں سے نکال دیتے ہیں ترا بھی مہر و مروت پہ اعتقاد نہیں تو ہم یہ خواب سروں سے نکال دیتے ہیں جو دل نہ جوڑ سکے، اب تو شیشہ گر اُس کو سنا ہے شیشہ گروں سے نکال دیتے…
-

شوقؔ بہرائچی مہ جبینوں کی محبت کا نتیجہ نہ ملا مرغ…
شوقؔ بہرائچی مہ جبینوں کی محبت کا نتیجہ نہ ملا مرغیاں پالیں مگر ایک بھی انڈہ نہ ملا حسن خود بیں نہ ملا حسن خود آرا نہ ملا جب میں سسرال گیا ایک بھی سالا نہ ملا کس طرح جاتا کوئی منزل مقصد کی طرف کوئی یکہ کوئی تانگہ کوئی رکشا نہ ملا نظر آیا…
-

رام ریاض کا یومِ پیدائش January 13, 1932 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
رام ریاض کا یومِ پیدائش January 13, 1932 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں رام سب سے بڑا ہوں اور اس زمانے میں بڑوں کو لوگ گھروں سے نکال دیتے ہیں ۔۔ ! رام ریاض کا اصل نام ریاض احمد ھے ۔ آپ 13 جنوری 1932 ء کو پانی پت ھریانہ مین پیدا ھوئے ۔ آپ کے والد کا…
-

-
آتش زمینِ شعر ہو ہر چند سنگلاخ لغزش سے آشنا نہیں …
آتش زمینِ شعر ہو ہر چند سنگلاخ لغزش سے آشنا نہیں اہلِ سخن کے پاؤں آتش
-
مکیں ہر معنی روشن مکاں ہر بیت موزوں ہے غزل کہتے نہ…
مکیں ہر معنی روشن مکاں ہر بیت موزوں ہے غزل کہتے نہیں ہم چند گھر آباد کرتے ہیں یہ شاعر ہیں الٰہی یا مصوّرپیشہ ہیں کوئی نئے نقشے نرالی صورتیں ایجاد کرتے ہیں آتش
-
کم تو پہلے بھی نہیں تھا مگر اے بِچھڑے ہُوئے بڑھ گی…
کم تو پہلے بھی نہیں تھا مگر اے بِچھڑے ہُوئے بڑھ گیا اور تِرے غم کا اثر بارِش میں۔۔۔! فرحتؔ عبّاس شاہ