Category: عکسِ خیال
-

ماں کی لوری کتنی پیاری ھے بچہ بُھوکا سو جاتا ھے ”…
ماں کی لوری کتنی پیاری ھے بچہ بُھوکا سو جاتا ھے ”فاروق بزمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

زھرہ نگاہ کی یہ نظم ھمارے معاشرے کا ایک شرمناک پہ…
زھرہ نگاہ کی یہ نظم ھمارے معاشرے کا ایک شرمناک پہلو بلکہ ایک ناسُور اَسقاطِ حَمل (ابورشن) پر ھے جو یہ پتہ چلنے پر کہ ھونے والی اولاد بیٹی ھے کروا دیا جاتا ھے۔ ”میں بچ گئی ماں“ میں بچ گئی ماں میں بچ گئی ماں تیرے کچے لہُو کی مہندی مرے پور پور میں…
-

تم کہاں اِس کنجِ آزار میں ، کھوئی ھُوئی ھو ؟؟ تم ک…
تم کہاں اِس کنجِ آزار میں ، کھوئی ھُوئی ھو ؟؟ تم کو تو ، میرے بچے کی ماں ھونا تھا ”ثروت حسین“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

محسن نقوی شاعر تھے ، غزل گو تھے، مگر اُن کی نظمیں …
محسن نقوی شاعر تھے ، غزل گو تھے، مگر اُن کی نظمیں بھی لافانی ھیں ، وہ شاعری میں منفرد حیثیت و مقام کے حامل تھے ، اُنہیں آپ جب جب پڑھیں گے اُن کے کلام سے نئی ضُوفشانیاں پائیں گے۔ وہ اَدب کے ھر رنگ اور شاعری کی ھر صِنف پر نہ صرف خوبصُورتی…
-

کوئی موسم ھو دل میں ھے ، تمھاری یاد کا موسم کہ بدل…
کوئی موسم ھو دل میں ھے ، تمھاری یاد کا موسم کہ بدلا ھی نہیں جاناں !! تمھارے بعد کا موسم نہیں تو آزما کر دیکھ لو ، کیسے بدلتا ھے تمہارے مسکرانے سے دلِ نا شاد کا موسم صدا تیشے سے جو نکلی ، دلِ شیریں سے اٹھی تھی چمن خسرو کا تھا لیکن…
-

مُمکن نہیں ھے ، مجھ سے یہ طرزِ مُنافقت دُنیا ، تیر…
مُمکن نہیں ھے ، مجھ سے یہ طرزِ مُنافقت دُنیا ، تیرے مزاج کا بَندہ نہیں ھُوں میں امجدؔ تھی بھیڑ ایسی ، کہ چلتے چلے گئے گِرنے کا ایسا خوف تھا ، ٹھہرا نہیں ھُوں میں ”امجد اسلام امجدؔ“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

امجد پر نظم لکھنا ختم ھے۔ بہت ھی من موھنی نظم جسے …
امجد پر نظم لکھنا ختم ھے۔ بہت ھی من موھنی نظم جسے نغمگی کی خُوبصُورت شکل میڈم نور جہاں نے گا کر دی۔ 80 کی دھائی کا پی ٹی وی کا سپر ھٹ گانا۔ میں تیرے سنگ کیسے چلوں سجنا ؟؟ تُو سمندر ھے ، میں ساحلوں کی ھَوا تم میرا ھاتھ ھاتھوں میں لے…
-

یہ آپ ھم تو بوجھ ھیں زمین کا زمیں کا بوجھ , اٹھانے…
یہ آپ ھم تو بوجھ ھیں زمین کا زمیں کا بوجھ , اٹھانے والے کیا ھُوئے ؟؟ ”ناصر کاظمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

ناصر کی سگنیچر غزل ، ایک ایک شعر لاجواب۔ جس کا ایک…
ناصر کی سگنیچر غزل ، ایک ایک شعر لاجواب۔ جس کا ایک شعر ان کی قبر کے کتبے پر بھی کنداں ھے۔ چھوٹی بحر کا بے مثال شاعر۔ عشق جب زمزمہ پیرا ھو گا حُسن خود محوِ تماشا ھو گا دائم آباد رھے گی دنیا ھم نہ ھوں گے ، کوئی ھم سا ھو گا…
-

ﮐﻢ ﻧُﻤﺎ ھﻢ ﺑﮭﯽ ھﯿﮟ ، ﻣﮕﺮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ تجھ ﺳﺎ ، ﻧﮧ ﺧ…
ﮐﻢ ﻧُﻤﺎ ھﻢ ﺑﮭﯽ ھﯿﮟ ، ﻣﮕﺮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ تجھ ﺳﺎ ، ﻧﮧ ﺧﻮﺩ ﻧُﻤﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ”ناصر کاظمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house