Category: عکسِ خیال
-

اَب اُن سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ناصر وہ ھم نوا ،…
اَب اُن سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ناصر وہ ھم نوا ، جو میرے رتجگوں کے ساتھی تھے ”ناصر کاظمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

اُس کو پڑهتا هُوں رات دِن ناصر وه جو صُورت , کتاب …
اُس کو پڑهتا هُوں رات دِن ناصر وه جو صُورت , کتاب کی سی هے ”ناصر کاظمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

چلتی ھی جا رھی ھے ، عُمرِ رواں کی ریل۔ ھم کو یہیں …
چلتی ھی جا رھی ھے ، عُمرِ رواں کی ریل۔ ھم کو یہیں اُترنا ھے ، زنجیر کھینچیے۔ ”نامعلوم” بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

جوشِ جنوں میں ، درد کی طغیانیوں کے ساتھ اشکوں میں …
جوشِ جنوں میں ، درد کی طغیانیوں کے ساتھ اشکوں میں ڈھل گئی ، تیری صُورت کبھی کبھی۔ ”ناصر کاظمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

اوجھل ھُوئے جاتے ھیں ، نگاھوں سے دو عالم تم آج کہا…
اوجھل ھُوئے جاتے ھیں ، نگاھوں سے دو عالم تم آج کہاں ھو ، غمِ فرقت کے سہارو ؟؟ ”ناصر کاظمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

کرب ، آمادۂ اظہار ھے ، لیکن آواز میری سانسوں کی گز…
کرب ، آمادۂ اظہار ھے ، لیکن آواز میری سانسوں کی گزرگاہ سے ، گزرے کیسے۔؟؟ ”اَحمّد ندیم قاسمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

اِس سے کمال غزل بھی کیا ھو گی۔ ایک ایک شعر سونے کے…
اِس سے کمال غزل بھی کیا ھو گی۔ ایک ایک شعر سونے کے تار سے لکھنے لائق۔ وقت کی عمر کیا بڑی ھو گی اِک تیرے وصل کی گھڑی ھو گی دستکیں دے رھی ھے پلکوں پر کوئی برسات کی جھڑی ھو گی کیا خبر تھی کہ نوکِ خنجر بھی پھول کی ایک…
-

پھر ڈُوب گیا ، گیسوئے جاناں کی مَہک میں دو دن تو …
پھر ڈُوب گیا ، گیسوئے جاناں کی مَہک میں دو دن تو رھا ، گردشِ ایّام کا نشہ ”ساغر صدیقی” بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

صُبح صُبح ایک حسبِ حال شعر آپ کی بصارتوں کی نذر ھے…
صُبح صُبح ایک حسبِ حال شعر آپ کی بصارتوں کی نذر ھے۔ اپنی جانب سے ، کوئی وار نہ ھم نے کیا بس اُدھر پھینک دی ، جو اینٹ جہاں سے آئی "صبا اکبر آبادی” بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

گلزار کے لازوال اور ھٹ گیتوں کی فہرست بہت ھی طویل …
گلزار کے لازوال اور ھٹ گیتوں کی فہرست بہت ھی طویل ھے۔ اُن میں سے ھی ایک فلم ”تھوڑی سی بیوفائی“ کا یہ گیت۔ خیام کا لازوال سنگیت اور لتا کشور کی مدھُر آوازیں۔ نیرج اور آنل کی بھی اچھی کوشش اور کسی حد تک انصاف بھی کیا۔ ھزار راھیں مُڑ کے دیکھیں کہیں سے…