___موسی جلیل کی ایک نظم : (موبت کے زندان میں لکھی یادیں/ 1942) میں نے خواب می…
___موسی جلیل کی ایک نظم :
(موبت کے زندان میں لکھی یادیں/ 1942)
میں نے خواب میں اپنی
ننھی بیٹی کو دیکھا
وہ آئی اور اس کے
چھوٹے سے ہاتھ نے
میرے بالوں کو سنوارا
…
پھر میں ہر صبح کی طرح
اپنے زندان میں بیدار ہوا
وہی تاریک دیواریں ، بیڑیاں اور
منظر سے خالی کھڑکی
بے نام اندھیرے میں
ایک غمزدہ دروازے پر
میرا غرور پہرہ دے رہا تھا
میں نے سوچا:
کیوں نا اپنے اس خواب کو زندگی کا نام دوں ؟
کیوں ؟
یہ زندگی دنیا کے بدنما قید خانوں میں بند ہے
بیداری محض درد اور خوف سے آشکار
محبت کو جہاں ہے میری تلاش
اب صرف نیند میں ہی باقی ہیں
وہ گلیاں اور سنسار !!
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3868616936702144