یہ کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جس کی جیب خالی تھی،…


یہ کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جس کی جیب خالی تھی، مگر جس کا دامن خوابوں سے بھرا ہوا تھا۔
جب میری عمر انیس برس ہوئی، تو میرے ہم عمر لڑکے ہاتھوں میں فائلیں تھامے بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی دہلیز پار کر رہے تھے، لیکن میں اپنی غربت کی وجہ سے کسی کالج میں داخلہ نہ لے سکا۔ میرے پاس فیس کے لیے پیسے نہیں تھے، مگر میرے اندر جاننے کی ایک ایسی پیاس تھی جو کسی ڈگری کی محتاج نہ تھی۔
میں نے ایک راستہ نکالا۔ میں نے شہر کی پبلک لائبریری کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ ہفتے میں تین دن، میں صبح سے شام تک وہاں موجود رہتا۔ میں نے تاریخ پڑھی، فلسفہ کھنگالا، ادب کے سمندر میں غوطے لگائے اور سائنس کی گتھیاں سلجھائیں۔ وقت گزرتا گیا، اور جب میں ستائیس سال کا ہوا، تو میرے پاس کسی یونیورسٹی کی سند تو نہیں تھی، لیکن میں اس پوری لائبریری کو پڑھ کر ختم کر چکا تھا۔ میں نے اپنی تعلیم مفت حاصل کی تھی، کیونکہ میں جان گیا تھا کہ جب انسان کے اندر سچی تڑپ ہو، تو منزل خود راستہ دکھاتی ہے۔
لیکن اس علم نے مجھے ایک بہت بڑی حقیقت سے روشناس کرایا۔
ہم انسان اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس عظیم کائنات میں ہمارا مقام ایک ذرے سے زیادہ نہیں۔ ہم قدرت اور فطرت کے ایک ایسے حصار میں گھرے ہوئے ہیں جو ہمیں وہ سب کچھ دے سکتی ہے جس کا ہم تصور کر سکتے ہیں، لیکن وہ یہ سب کچھ واپس لینے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔
فطرت کا ایک اشارہ، اس کی ایک ایک پھونک ہمیں اس زمین کے سینے سے ایسے اڑا سکتی ہے جیسے گرد و غبار۔ وہ چاہے تو سمندر کی لہروں کو ایک جنبش دے کر انسانی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔ وہ جب چاہے ہمیں یہ یاد دلا سکتی ہے کہ اے انسان، تو اتنا طاقتور نہیں ہے جتنا تو اپنی نادانی میں خود کو سمجھ بیٹھا ہے۔
میری کہانی کا لب لباب بس اتنا ہے کہ سیکھو ضرور، مگر جتنا علم حاصل کرو، اتنی ہی عاجزی اپناؤ۔ کیونکہ یہ کائنات بہت وسیع ہے اور ہم اس میں محض ایک مختصر وقت کے لیے مہمان ہیں۔