یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں زندگی تیرے …
یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں
زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے
خلیل الرحمٰن اعظمی کا یومِ وفات
June 01, 1978
خلیل الرحمٰن اعظمیؔ 9 اگست 1927کو اعظم گڑھ* کے *سلطان پور* میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد مولانا محمد شفیع صاحب جید عالم دین تھے ۔کہتے ہیں *مولاناشبلیؔ* سے ان کے براہِ راست مراسم تھے- علیگڑھ یونی ورسٹی میں شعبہ اردو میں لیکچرار کے طور پر ملازمت اختیار کی تھی اور تاحیات اسی سے جڑے رہے۔
وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا
گھر میں کوئی آئے کہ نہ آئے ایک دیا سا جلتا تھا
یاد آتی ہیں وہ شامیں جب رسم و راہ کسی سے تھی
ہم بے چین سے ہونے لگتے جوں جوں یہ دن ڈھلتا تھا
ان گلیوں میں اب سنتے ہیں راتیں بھی سو جاتی ہیں
جن گلیوں میں ہم پھرتے تھے جہاں وہ چاند نکلتا تھا
وہ مانوس سلونے چہرے جانے اب کس حال میں ہیں
جن کو دیکھ کے خاک کا ذرہ ذرہ آنکھیں ملتا تھا
کوئی پرانا ساتھی بھی شاید ہی ہمیں پہچان سکے
ورنہ اک دن شہر-وفا میں اپنا سکہ چلتا تھا
شاید اپنا پیار ہی جھوٹا تھا ورنہ دستور یہ تھا
مٹی میں جو بیج بھی بویا جاتا تھا وہ پھلتا تھا
اب کے ایسے پت جھڑ آئی سوکھ گئی ڈالی ڈالی
ایسے ڈھنگ سے کوئی پودا کب پوشاک بدلتا تھا
آج شب- غم راس آئے تو اپنی بات بھی رہ جائے
اندھیارے کی کوکھ میں یوں تو پہلے سورج پلٹا تھا
دنیا بھر کی رام کہانی کس کس ڈھنگ سے کہہ ڈالی
اپنی کہنے جب بیٹھے تو اک اک لفظ پگھلتا تھا
()
بہت فسردہ ہیں ان کو کھو کر جگر فگاروں سے کچھ نہ کہنا
نہ جانے کیا ان کے دل پہ بیتے گی، سوگواروں سے کچھ نہ کہنا
بہت ہی بھوکے، بہت ہی مفلس، بڑے ہی آوارہ گرد ہیں ہم
بڑے ہی سرکش ہیں، جانے کیا کہہ دیں، غم کے ماروں سے کچھ نہ کہنا
کبھی نہ بھولیں گی ایسی گھڑیاں، یہ سخت تنہائیوں کے لمحے
گزارنی ہجر کی یہ راتیں، مگر ستاروں سے کچھ نہ کہنا
فغاں کہ ایسی فضا میں جینا پڑا ہے جس کا یہ مشورہ ہے
ستم سہے جاؤ لیکن اپنے ستم شعاروں سے کچھ نہ کہنا
یہ کس طرح کی وفا چمن سے ہے، کچھ کہو میرے ہم صفیرو
خزاں سے بڑھ کر جو زہر آگیں ہو، اُن بہاروں سے کچھ نہ کہنا
یہ مسکراتے ہیں میرے غم پر ت میری ڈھارس بندھا رہے ہیں
خلوص اک طرح کا ہے ان کو بھی، غم گساروں سے کچھ نہ کہنا
۔۔۔۔۔۔