ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سِی جو پی لی ہے ڈاکہ تو …

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سِی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
اس مے سے نہیں مطلب دِل جِس سے ہے بیگانہ
مقصُود ہے اُس مے سے دِل ہی میں جو کھنچتی ہے
سُورج میں لگے دھبہ فِطرت کے کرِشمے ہیں
بُت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے
نا تَجرِبہ کاری سے واعظ کی یہ باتیں ہیں
اِس رنگ کو کیا جانے پُوچھو تو کبھی پی ہے
اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا
مہمانِ نظر اِس دم اِک برقِ تجلّی ہے
واں دِل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لو
اُن کا بھی عجب دِل ہے میرا بھی عجب جی ہے
ہر ذرّہ چمکتا ہے انوارِ الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خُدا بھی ہے۔۔۔!
اکبرؔ الہ آبادی