کہت کبیر ( دوہے) چلتی چکی دیکھ کر ، دِیا کبیرا ر…
کہت کبیر ( دوہے)
چلتی چکی دیکھ کر ، دِیا کبیرا روئے
دوئی پٹن کے بیچ میں ، ثابت بچا نہ کوئے
( دو پٹ بھیتر آئی کے ' ثابت بچا نہ کوئے )
بُرا جو دیکھن میں چلا ، بُرا نہ مِلیا کوئے
جو مَن کھوجا اپنا ، تو مُجھ سے بُرا نہ کوئے
کبیرا کھڑا بزار میں مانگے سب کی خیر
نہ کَہو سے دوستی ، نہ کَہو سے بَیر
کل کرے سو آج کر ، آج کرے سو اَب
پَل میں پَرلے ہوئے گی بہوری کرو گی کب
بڑا ہوا تو کیا ہوا جیسے پَیڑ کھجور
پنتھی کو چھایا نہیں ، پھل لاگے اَتی دور
سائیں اتنا دیجئے جا مَیں کُٹمب سمائے
میں بھی بھوکا نہ رہوں سادھو نہ بھوکا جائے
مایا مَری نہ من مَرا ، مَر مَر گئے شریر
آشنا ترشِنا نہ مَری ، کہہ گئے داس کبیر
دُکھ میں سِمرن سَب کریں سُکھ میں کرے نہ کوئے
جو سُکھ میں سِمرن کرے تو دُکھ کہاں سے ہوئے
جیسے تِل میں تیل ہے جِیوں چَکمک میں آگ
تیرا سائیں تُجھ میں ہے ، تُو جاگ سکے تو جاگ
دھیرے دھیرے رے مَنا ، دھیرے سب کچھ ہوئے
مالی سینچے سو گھڑا ، رُت آئے پھل ہوئے
جاتی نہ پوچھو سادھو کی پوچھ لیجئے گیان
مول کرو تلوار کی پڑی رہن دو میان
جیوت سمجھے ، جیوت بُجھے ، جیوت ہی کرو آس
جیوت کرم کی پھانس نہ کاٹی ، موئے مُکتی کی آس
مانگن مرن سمان ہے ، مَت کوئی مانگے بھیک
مانگن سے مرنا بھلا ، یہ ست گرو کی سیکھ
کبیر ، مَن نِرمل بَھیا ، جیسے گنگا نِیر
پاچھے پاچھے ہَر پِھرے کہت کبیر کبیر
ماٹی کہے کُمہار سے ، تُو کیا روندھے موئے
اِک دِن ایسا ہو وے گا ، میں روندھوں گی توئے
پتا ٹوٹا ڈال سے لے گئ پَون اُڑائے
اب بِچھڑے کب مِلیں ، دور پڑیں گے جائے
مالا پھیرتے جگ بَھیا ، پھرا نہ من کا پھیر
مالا کا منکا چھوڑ دے ، مَن کا منکا پھیر
مالا کہے ہے کاٹھ کی تُو کیوں پھیرے موئے
مَن کا منکا پھیر دے تُرت مِلا دوں توئے
ایسی وانی ہو لئے ، مَن کا آپا کھوئے
اپنا تن شیتل کرے ، اوروں کا سُکھ ہوئے
کبیر مالا کاٹھ کی ، کہے ، سمجھائے توئے
مَن نہ پھیرے اپنا ، کاہے پھیرے موئے
جب تُو آیا جَگت میں ، لوگ ہنسے ، تُو روئے
ایسی کرنی نہ کری ، پیچھے ہنسے سب کوئے
چِنتا ایسی دیکھنی ، کاٹ کلیجہ کھائے
وَید بِچارا کیا کرے ، کہاں تک دوا لگائے
کبیرا گَرو نہ کیجئے ، اونچا دیکھ اواس
کل پَیروں بھوئیں لیٹنا ، اوپر جمسی گھاس
کبیرا کیا کُچھ نہ ہوتا ہے ، اَن کیا سب ہوئے
جو کیا کُچھ ہوتا ہے ، کرتا اور کوئے
میرا مُجھ میں کُچھ نہیں ، جو کُچھ ہے سو تیرا
تیرا تُجھ کو سونپ دیں ، کیا لاگے ہے میرا
روکھا سوکھا کائی کے ٹھنڈا پانی پِیو
دیکھ پرائی چوپڑی ، مَت للچائے جِیو
سادھو کہاوت کٹھن ہے ، لمبا پَیڑ کھجور
چڑھے تو چاکھے پریم رَس ، گِرے تو چَکنا چور
حد حد جائے ہر کوئی ، اَن حد جائے نہ کوئے
حد اَن حد کے بیچ میں پڑا کبیرا سوئے
( بھگت کبیر )