کلام شکیل بدایونی کا ہو۔۔اور آواز رفیع صاحب کی دونوں کے امتزاج سے ایسے شاہکار ہی تخلیق ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ اپ احباب کی سماعتو ں کی نذر ۔۔۔
یہ زندگی کے میلے
دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے!!
اک دن پڑے گا جانا
کیا وقت کیا زمانہ
کوئی نہ ساتھ دے گا
سب کچھ یہیں رہے گا
جائیں گے ہم اکیلے
دنیا ہے موجِ دریا
قطرے کی زندگی کیا
پانی میں مل کے پانی
انجام یہ کہ پانی
دم بھر کو سانس لے لے
ہوں گی یہیں بہاریں
اُلفت کی یادگاریں
بگڑے گی اور چلے گی
دنیا یہیں رہے گی
ہوں گے یہی جھمیلے
یہ زندگی کے میلے
دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے!!

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔