موجُودَگی……
کہیں دور بکھری پڑی ہے
وہ ٹھوکر
کہ جس سے کیا تھا
مسافت کا آغاز—-
وہیں پر کہیں
گونج ہے، آہ جیسی
کہ جس کے فسوں میں
ہر اک خواب سے
سلسلہ وار گزرا
کبھی خوش دلی سے
کہیں بے دلی سے
کہ راتیں بہت تھیں
سو راتیں بہت ہیں
کہ گھاتیں بہت تھیں
سو گھاتیں بہت ہیں
اندھیرے میں گرتی ہوئی منزلیں بھی
مرے گرد پھیلی رہی ہیں
تمازت میں بکھرے ہوئے
صاف شفافّ دِن بھی—
وہ شامیں تو گنتی میں بھی
کب رہی ہیں
کہ جن میں کہیں
نرم لہراتی مہکار
ہر سَمت سے، جگمگاتے ہوئے لمس
میرے بدن سے
مرے بازوؤں سے لپٹتے رہے ہیں
مرے دِل میں
نیزوں کی صورت گڑے ہیں
سفر جس قدر تھا
کڑا بھی تھا، ہموار بھی تھا
یہیں سے کہیں، اور آگے بھی
رستے ہیں شاید
کہ جن پر مجھے
مسکراتے ہوئے چلتے جانا ہے
حدِنظر تک………
یہ دنیا ہے، آوازوں کی سمفنی
مجھے
اپنے حصے کا سُر تو لگانا ہی ہوگا
جہاں ہوں
وہاں تو یقیناََ ہوں موجود—
لیکن، بہت دور تک ہے یہ موجودگی
جو تسلسل کے ہالے میں
رقصاں رہی ہے
سو رقصاں رہے گی!
ڈاکٹر ابرار احمد
از:-موہوم کی مہک ص ۱۲۵/۱۲۶/۱۲۷
اِنتِخاب
سفیدپوش

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔