کب کہنے دیتے ہیں وہ دمِ ذبح حالِ دل باتیں بھی میری…


کب کہنے دیتے ہیں وہ دمِ ذبح حالِ دل
باتیں بھی میری کاٹتے جاتے ہیں سر کے ساتھ
امیر حسن فروغ.