دیکھنا پھُولوں کا اعتبار نہ اُٹھ جاۓ
کوئی تِرے در سے اشکبار نہ اُٹھ جاۓ
میری طرف سے یہ پھُول تُحفہ ہی تو ہیں
حُسن کا تیرے حقیر صدقہ ہی تو ہیں
پھُولوں کی ہی تھوڑی لاج رکھنی پڑے گی
اِتنی تو تکلیف تُجھ کو کرنی پڑے گی
پھُول ہے اِک تُو بھی اور پھُول سے جاناں
بات ہو گر پھُول کی زُباں میں تو بہتر
اب تِرے انکار سے بھی ہونا کیا ہے
جان بھی لے روز کا یہ رونا کیا ہے
پھُول نہیں ہیں یہ دل پہ ہیں تِرے دستک
اور یہ دستک تو اب میں دیتا رہُوں گا
(اظہر ناظؔر)

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔