ڈراما نگار، فلم اداکار، تھیٹر ڈائریکٹر اور ممتاز ش…
ڈراما نگار، فلم اداکار، تھیٹر ڈائریکٹر اور ممتاز شاعر حبیب تنویرؔ کا یومِ ولادت
یکم؍ستمبر 1923
حبیب تنویرؔ 08؍جون 2009ء کو بھوپال میں انتقال کر گئے۔
….
بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی
زندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھی
پوچھتے رہتے ہیں غیروں سے ابھی تک میرا حال
آپ تک پہنچے نہیں شاید مرے اشعار ابھی
زندگی گزری ابھی اس آگ کے گرداب میں
دل سے کیوں جانے لگی حرص لب و رخسار ابھی
ہاں یہ سچ ہے سر بسر کھوئے گئے ہیں عقل و ہوش
دل میں دھڑکن ہے ابھی دل تو ہے خود مختار ابھی
کیوں نہ کر لوں اور ابھی سیر بہار لالہ زار
میں نہیں محسوس کرتا ہوں نحیف و زار ابھی
…….
میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی
دیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھی
کر چکا ہوں پار یہ دریا نہ جانے کتنی بار
پار یہ دریا کروں گا اور کتنی بار ابھی
گھوم پھر کر دشت و صحرا پھر وہیں لے آئے پاؤں
دل نہیں ہے شاید اس نظارے سے بے زار ابھی
کاوش پیہم ابھی یہ سلسلہ رکنے نہ پائے
جان ابھی آنکھوں میں ہے اور پاؤں میں رفتار ابھی
اے مرے ارمان دل بس اک ذرا کچھ اور صبر
رات ابھی کٹنے کو ہے ملنے کو بھی ہے یار ابھی
جذبۂ دل دیکھنا بھٹکا نہ دینا راہ سے
منتظر ہوگا مرا بھی خود مرا دل دار ابھی
ہوں گی تو اس رہگزر میں بھی کمیں گاہیں ہزار
پھر بھی یہ بار سفر کیوں ہو مجھے دشوار ابھی
…………….