چرخ کو کب یہ سلیقہ ہے ستم گاری میں کوئی معشوق ہے …

چرخ کو کب یہ سلیقہ ہے ستم گاری میں
کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں
منو لال وفاؔ