ٹھہری نہ دل میں اشکِ رواں ہو گئی وہ بات
لب بستگی میں اور بیاں ہو گئی وہ بات
دل سے چلی تو تھی دمِ آتش فشاں کے ساتھ
پھر جانے کیا ہوا کہ دھواں ہو گئی وہ بات
آئے ہو جانے کتنی بہاریں گزار کے
رہنے دو اب وہ بات خزاں ہو گئی وہ بات
ہم تو بنا کے نغمہ ہی لائے تھے بزم میں
تم اتنی دور تھے کہ فغاں ہو گئی وہ بات
انکار کرتے کرتے وہ آنکھیں چھلک پڑیں
بارِ الٰہ ہم سے کہاں ہو گئی وہ بات
لیاقت علی عاصمؔ
المرسل: فیصل خورشید

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔