وہ پچاس سال پرانا گھر آج بہت خاموش تھا۔ اکرام صاحب شیشے کے سامنے کھڑے اپنی سفیدی مائل داڑھی اور جھکی ہوئی کمر کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں یاد آیا وہ وقت جب ان کی ایک پکار پر محفلیں جم جایا کرتی تھیں، جب ان کی توانائی اور رعب کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ لیکن وقت کی دھول نے سب دھندلا دیا تھا۔
وہ کمرے سے باہر نکلے تو سیڑھیوں کے پاس قدم لڑکھڑا گئے۔ بڑھاپے کا احساس کسی بوجھ کی طرح ان کے اعصاب پر سوار تھا۔ انہیں لگا جیسے وہ اب ایک "بیکار” وجود بن چکے ہیں جس کی چمک ختم ہو چکی ہے۔
ابھی وہ اسی اداسی میں گم تھے کہ ناصرہ پیچھے سے آئیں۔ ناصرہ، جن کا حسن کبھی اس محلے میں مشہور تھا، اب خود بھی وقت کے تھپیڑوں سے گزری تھیں۔ ان کی آنکھوں کے گرد حلقے تھے اور ہاتھ کپکپا رہے تھے، مگر ان ہاتھوں میں اب بھی وہی سکون تھا جو اکرام صاحب کی زندگی کا کل اثاثہ تھا۔
ناصرہ نے آگے بڑھ کر اکرام صاحب کی قمیص کا کالر درست کیا اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔ اکرام صاحب نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، "ناصرہ، دیکھو تو ہم کیا سے کیا ہو گئے۔ نہ وہ جوانی رہی، نہ وہ چہرے کی رونق۔ سب ڈھل گیا۔۔۔”
ناصرہ نے مسکرا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا اور بڑے مان سے بولیں، "اکرام صاحب، دیواروں کا پلاسٹر گرنے سے گھر نہیں بدلا کرتے۔ جوانی اور حسن تو مہمان ہوتے ہیں، انہیں تو ایک دن رخصت ہونا ہی تھا۔ پر آپ نے دیکھا؟ جو چیز نہیں بدلی، وہ میرا آپ کا ہاتھ تھامنے کا انداز ہے۔”
انہوں نے اکرام صاحب کا ہاتھ ذرا اور مضبوطی سے پکڑ کر کہا، "انسان کا اصل حسن اس کے چہرے میں نہیں، اس کی **وفا** میں ہوتا ہے۔ اور آپ کی وفا نے مجھے کبھی بوڑھا ہونے ہی نہیں دیا۔ جب تک یہ ساتھ ہے، ہم آج بھی وہی جوان اور خوبصورت جوڑا ہیں جو برسوں پہلے اس گھر میں آیا تھا۔”
اکرام صاحب کی آنکھوں میں ایک چمک آ گئی۔ انہیں سمجھ آ گیا کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، سوائے اس محبت اور وفا کے جو روحوں کو جوڑے رکھتی ہے۔ انہوں نے سر جھکا کر اپنی شریکِ حیات کا شکریہ ادا کیا، اور دونوں ایک دوسرے کا سہارا بنے دھیرے دھیرے صحن کی طرف چل پڑے۔
**حاصلِ کلام:**
وقت جسموں کو کمزور کر سکتا ہے، مگر ایک وفادار انسان کا ساتھ روح کو کبھی بوڑھا نہیں ہونے دیتا۔
