وہ سنسان باغ میں زرد پتوں کے نیچے ایک چوبی بنچ پر بیٹھا، دونوں ہاتھ اپنی چھڑی کے نقرئی دستے پر رکھے، گرد آلود بطخوں کو تکتے ہوئے، موت کے بارے میں غور کر رہا تھا۔۔
جب وہ پہلی بار جینوا آیا تھا تو یہ جھیل پر سکون اور شفاف تھی، مرغابیاں اتنی مانوس تھیں کہ آکر ہاتھ پر سے دانہ چگ لیتی تھیں، اور مہاجر عورتیں اپنے آرگنڈی ملبوسوں اور ریشمی چھتریوں کے ساتھ شام چھ بجے کی تصوراتی مخلوقات دیکھائی دیتی تھیں۔۔
اب جہاں تک وہ دیکھ سکتا تھا، واحد ممکن عورت ویران گودی پر پھول بیچ رہی تھی۔۔۔ اس کے لئے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ وقت نہ صرف اس کی زندگی میں بلکہ پوری دنیا میں اس قدر تباہی پیدا کرنے پر قادر ہے۔۔!!
••••
تحریر : سفر بخیر، جناب صدر!
مصنف : گابرئیل گارسیا مارکیز
مترجم : اجمل کمال
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2995556820674831

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔