نیر رانی شفق کا یوم پیدائش سالگرہ بہت مبارک ہو Mar…
نیر رانی شفق کا یوم پیدائش
سالگرہ بہت مبارک ہو
March 06, xxxx
لپیٹے ہاتھ میں دھاگا گزرارا خوف میں بچپن
جو چھوٹا ہاتھ سے دھاگا غبارے پھر نہیں ملتے
—–
آخری عمر کی چاہت مجھے واپس کر دو
انہی لمحوں کی سخاوت مجھے واپس کر دو
——
تونے بخشا تھا خزاں رت کو بہاروں کا فسوں
ایسے جذبوں کی کرامت مجھے واپس کر دو
——
محبتوں کا شمار کیسا، حساب کیسا
وفا میں نقد اور ادھار کیسا، حساب کیسا
جب اپنی پونجی ہی آس ٹھہری، اساس ٹھہری
تو وصل کا پھر خمار کیسا، حساب کیسا
——
نہیں بے سبب یہ کہانیاں مرے ہمسفر مرے ہم نفس
مرے آنسوؤں کی روانیاں مرے ہم سفر مرے ہم نفس
کبھی فصل گل کا حسیں سماں کبھی سردیوں کی اداس شب
تھیں محبتوں پہ جوانیاں مرے ہم سفر مرے ہم نفس
—–
ملن رت کے حسیں سپنے ذرا تعبیر کرتے ہیں
چلو ان چاند تاروں کو یونہی تسخیر کرتے ہیں
بہت منہ زور ہیں دیکھو نکل جائیں نہ ہاتھوں سے
چلو اڑتے ہوئے لمحے یہیں زنجیر کرتے ہیں
——
تو میری آنکھ کے دریاؤں کو حیرت سے نہ دیکھ
سبھی دریاؤں کو لگتے ہیں سمندر اچھے
——
کبھی کوکب کبھی ثاقب کبھی نجم و قمر بن کر
کبھی روشن ہوا وہ صورت نور سحر بن کر
جلا ڈالا شفق مجھ کو چمن میں باد صر صر نے
گھٹائیں خوب برسی تھیں مگر برق و شرر بن کر
—–
گر ہی جائے گی کبھی میرے خلوصِ دل سے یہ
حائل اک دیوار ہے جو دوستوں کے درمیاں
—–
رو پہلی شام ہو یا ہوں سویرے ارغوانی سے
شفق رنگوں کے سب منظر مجھے تسخیر کرتے ہیں
—–
میں ریزہ ریزہ بکھر گئ تھی کوئ نہ تھا جو سمیٹ لیتا
بھنور میں ساحل کی سمت بےسود اپنی آہیں اچھالتی تھی
——
محبت میں کبھی بھی تم انا کی بات مت کرنا
جنوں میں ہو سکے تو پھر سزا کی بات مت کرنا
——
تم نے دیکھی ہی نہیں ہجر کی رات کبھی
تم پہ اترتی کاش یہی سوغات کبھی
میخانے کی گلیوں میں پھرنے والے
میری آنکھوں نے دی تھی تم کو مات کبھی
—–
سچ کی خاطر دیکھو ہم نے کیا کیا درد چھپائے ہیں
کرچی کرچی من کے اندر سارے خواب چھپائے ہیں
سچ کا پرچم لے کر نکلی جھوٹوں کی اس بستی میں
زخمی زخمی جسم ہے میرا پتھر کیسے کھائے ہیں۔
….
محسن نقوی کے شہر ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والی صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعرہ، افسانہ نگارہ، ادیبہ صحافی اور معلمہ نیر رانی شفق کو محسن نقوی کے بعد شاعری کے میدان میں اپنے شہر میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ نیر رانی شفق صاحبہ نے افسانہ نگاری میں بھی خوب نام بنایا ہے۔ فی الحال ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ شفق رنگ کہانیاں کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ لیکن زیادہ شناخت انہیں اپنی منفرد شاعری اور غزل کی وجہ سے ملی ہے اور خود بھی نیر رانی شفق صاحبہ شاعری کو زیادہ اہمیت اور وقت دے رہی ہیں۔۔ نیر رانی شفق کو ان کی ادبی خدمات پر اب تک سرکاری اور غیر سرکاری درجنوں ایواڑ مل چکے ہیں۔