میری نانی اکثر ایک کمال کی بات کہا کرتی تھیں: "بیٹ…


میری نانی اکثر ایک کمال کی بات کہا کرتی تھیں:
"بیٹا! جب حالات تپتی دھوپ کی طرح سخت ہو جائیں اور راستہ سجھائی نہ دے، تو لمبی چھلانگیں مارنے کی کوشش نہ کرنا، بس چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا شروع کر دینا۔”
زندگی کے جبر میں جب انسان ٹوٹنے لگے تو اسے مستقبل کے بڑے بڑے فیصلوں اور کل کے اندیشوں میں نہیں الجھنا چاہیے۔ اس وقت بس وہ کریں جو سامنے موجود ہے۔
* کچن میں جاؤ اور گندے برتن دھو ڈالو۔
* کمرے کی میز سے جمی ہوئی دھول صاف کر دو۔
* کسی پیارے کو ایک مختصر سا خط لکھو۔
* اپنے لیے ایک گرم سوپ کا پیالہ بنا لو۔
آپ کو اندازہ ہو رہا ہے؟ آپ رک نہیں گئے، آپ چل رہے ہیں۔ آپ کا ہر چھوٹا کام دراصل ایک قدم ہے جو آپ کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جا رہا ہے۔
ایک قدم اٹھائیں اور پھر رک جائیں۔ تھوڑا سانس لیں، خود کو تھپکی دیں کہ "شاباش! تم نے یہ کر لیا۔” پھر اگلا قدم اٹھائیں، اور پھر اس سے اگلا۔
یقین مانیے، آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ کب یہ چھوٹے چھوٹے قدم لمبی اڑان میں بدل گئے۔ اور پھر ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب آپ گزرے ہوئے کل اور آنے والے مستقبل کے بارے میں سوچیں گے، مگر آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں، بلکہ فتح کی مسکراہٹ ہوگی۔
یہی زندگی ہے اور یہی زندگی گزارنے کا اصل فن ہے!