مِل گیا تھا تو اُسے خود سے خفا رکھنا تھا …
مِل گیا تھا تو اُسے خود سے خفا رکھنا تھا
دِل کو کُچھ دیر تو مصروفِ دُعا رکھنا تھا
میں نہ کہتا تھا کہ سانپوں سے اَٹے ہیں رستے
گھر سے نِکلے تھے تو ہاتھوں میں عصا رکھنا تھا
بات جب ترکِ تعّلُق پہ ہی ٹھہری تھی تو پھر
دِل میں احساسِ غمِ یار بھی کیا رکھنا تھا
دامنِ موجِ ہَوا یوں تو نہ خالی جاتا
گھر کی دہلیز پہ کوئی تو دِیا رکھنا تھا
کوئی جگنو تہہِ داماں بھی چھُپا سکتے تھے
کوئی آنسو پسِ مژگاں ہی بچا رکھنا تھا
کیا خبر اُس کے تعاقب میں ہوں کتنی سوچیں
اپنا انداز تو اوروں سے جدُا رکھنا تھا
چاندنی بند کواڑوں میں کہاں اُترے گی
اِک دریچہ تو بھرے گھر میں کُھلا رکھنا تھا
اُس کی خوشبو سے سجانا تھا جو دِل کو محسنؔ
اُس کی سانسوں کا لقب موجِ صبا رکھنا تھا
(محسنؔ نقوی)
المرسل: فیصل خورشید