موٹرسائیکل والوں کے لیے حکومت کا “عظیم ریلیف پیکج” آخرکار سامنے آ ہی گیا… اور یق…
موٹرسائیکل والوں کے لیے حکومت کا “عظیم ریلیف پیکج” آخرکار سامنے آ ہی گیا… اور یقین کریں، یہ اتنا آسان ہے کہ بندہ ریلیف لینے سے پہلے ہی تھک جائے 😄
اعلان کے مطابق موٹرسائیکل سواروں کو پورے “ایک سو روپے (100 روپے)” کا تاریخی ریلیف دیا جائے گا، لیکن اس کے لیے چند معمولی سی شرائط رکھی گئی ہیں — جو صرف وہی پوری کر سکتا ہے جو یا تو بہت فارغ ہو… یا بہت صابر ہو!
سب سے پہلے تو آپ کی سکوٹری آپ کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے، لائسنس بھی ہونا چاہیے، اور ہیلمٹ بھی پہننا ضروری ہے (یہ تینوں تو ٹھیک ہیں، یہاں تک عوام خوش تھی)۔ لیکن اصل فلم اس کے بعد شروع ہوتی ہے…
آپ کو ایکسائز آفس سے یہ سرٹیفکیٹ لینا ہوگا کہ واقعی یہ سکوٹری آپ ہی کی ہے — یعنی جو رجسٹریشن پہلے سے آپ کے نام پر ہے، اس کی بھی دوبارہ تصدیق ضروری ہے، کہیں آپ خود کو پہچاننے میں غلطی نہ کر جائیں! پھر نادرا سے ویری فکیشن لیٹر بھی چاہیے، تاکہ ثابت ہو سکے کہ آپ واقعی وہی ہیں جو آپ ہیں۔
اب بات صرف شناخت تک نہیں رہی، بلکہ آپ کی معاشی حالت بھی چیک ہوگی — شرط یہ ہے کہ آپ کے نام پر کوئی زمین نہ ہو، تاکہ یقین ہو جائے کہ آپ واقعی “ریلیف کے مستحق” ہیں، نہ کہ غلطی سے خوشحال نکل آئیں۔
گھر کے حالات بھی اہم ہیں — کم از کم پانچ یا چھ بچے ہونے چاہئیں، جو یونین کونسل میں رجسٹرڈ ہوں، تاکہ حکومت کو یقین ہو کہ آپ واقعی زندگی کے امتحان میں فُل ٹائم شریک ہیں۔
اخلاقی معیار بھی لازمی ہے — آپ نے زندگی میں کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کیا ہو، اور اس بات کا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی موجود ہو… یعنی اگر بچپن میں بھی کسی سے کنچے (marbles) پر لڑائی ہوئی ہو، تو معذرت 😄
پھر آپ کو دو گواہ بھی ساتھ لانے ہوں گے، جو آپ کے سگے رشتہ دار نہ ہوں — کیونکہ حکومت کو آپ کی ایمانداری پر تو یقین ہے، مگر پھر بھی “کنفرمیشن” ضروری ہے۔
یہ سب دستاویزات اکٹھی کرنے کے بعد آپ دو دن پہلے ڈی سی آفس میں درخواست جمع کروائیں گے، پھر ایک ہفتہ انتظار کریں گے… اور آخرکار وہ مبارک دن آئے گا جب آپ کو ایک لیٹر ملے گا — جس کے ذریعے آپ کو پٹرول میں 100 روپے کا تاریخی ریلیف ملے گا!
یعنی خلاصہ یہ ہوا کہ: پٹرول لینے سے پہلے بندہ اپنی پوری زندگی کا آڈٹ کروا لے 😄
حکومت کا وژن بالکل واضح ہے — “ریلیف براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے”… چاہے عوام اس ریلیف تک پہنچتے پہنچتے پار ہی کیوں نہ پہنچ جائے!

Source