منتخب کلام دانیال طریر ………………. خاموشی …


منتخب کلام دانیال طریر
……………….
خاموشی کی قرأت کر نے والے لوگ
اَ بوُّ جی اور سارے مر نے والے لو گ

روشنیوں کے دھبے ، ان کے بیچ خلا
اور خلاؤں سے ہم ڈرنے والے لوگ

مٹی کے کُوزے اور اُن میں سانس کی لو
رب رکھے یہ برتن بھر نے والے لوگ

میرے چاروں جانب اُونچی اُونچی گھاس
میرے چاروں جانب چرنے والے لوگ

آخر جسم بھی دیواروں کو سو نپ گئے
دروازوں میں آنکھیں دھرنے والے لوگ

کسی کی نہیں تھیں وہ آنکھیں اور پلکیں
کسی کی تھی نمی میری نہیں تھی

عجیب گرد سی اُڑنے لگی ہے رستوں میں
میں ڈررہا ہوں سفر پر وانہ ہونے سے

نئی نئی صورتیں بدن پراُجالتا ہوں
لہوسے کیسے عجیب منظر نکالتاہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنگ اور نور کی تمثیل سے ہو گا کہ نہیں
شب کا ماتم مری قندیل سے ہو گا کہ نہیں

دیکھنا یہ ہے کہ جنگل کو چلانے کے لۓ
مشورہ ریچھ سے اور چیل سے ہو گا کہ نہیں

آیت تیرہ شبی پڑھتے ہوۓ عمر ہوئی
سامنا اب بھی عزرائیل سے ہو گا کہ نہیں

زرد مٹی مین اترتی ہوئی اے قوس قزح
خواب پیدا تری ترسیل سے ہو گا کہ نہیں

اوس کے پھول مہکتے ہیں تری آنکھوں میں
ان کا رشتہ بھی کسی نیل سے ہو گا کہ نہیں

جب سخن کرنے لگوں گا میں تجھے عصر رواں
استعارہ کوئی انجیل سے ہو گا کہ نہیں
…………
نیند بیچی جا رہی ہے کاروبار خواب ہے
پھر بھی آشفتہ سروں کو اعتبار خواب ہے

ان دنوں آنکھوں کی تقدیریں ہیں کس کے ہاتھ میں
کون آخر ان دنوں پروردگار خواب ہے

نقش پا ہے زندگی کا اور اس پر آبلے
جوئبار تشنگی ہے ریگ زار خواب ہے

ایک منظر بھی نہیں ہے میرے چھونے کے لیے
یہ جہاں کوئی خلائے شرمسار خواب ہے

سارے کرداروں کے چہرے زرد لہجے سرد ہیں
یہ کہانی کیا پڑھو گے داغ دار خواب ہے

آسماں کو دیکھتا ہوں چار جانب دیکھ کر
اور کتنے دن فضائے انتشار خواب ہے

رفتگاں میں اور ہم میں مشترک ہے ایک بات
انتظار خواب تھا اور انتظار خواب ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈر لگتا ہے ٹوٹ نہ جائے سپنوں والی باڑ
پاؤں پڑی ہے پیار کے کچے دھاگوں والی باڑ

چاٹ رہی ہے دیمک بن کر جینے کی خواہش
کاٹ رہی ہے رگ رگ اندر سانسوں والی باڑ

کیسے پریت کے بندھن باندھیں دیش دیش کے لوگ
سرحد سرحد لگی ہوئی ہے کانٹوں والی باڑ

دروازے سے لوٹ آئی ہیں پھر آنکھیں مایوس
ٹوٹ گئی ہو جیسے کسی کے وعدوں والی باڑ

پنکھ لگا کر دل کرتا ہے اڑوں میں پربت پار
روک رہی ہے مجھ کو زمیں پر رشتوں والی باڑ

رات کو جب میں دیکھ کے سویا تیری آنکھوں کو
خواب میں دیکھی قوس قزح کے رنگوں والی باڑ

جلتے دئیے ہوں طاق میں جیسے چہرے میں آنکھیں
شانوں کی دیوار پہ پھیلی زلفوں والی باڑ

چاند اکیلا جیسے طریرؔ اور سڑک کے گرد اشجار
جیسے رات کو آسمان پر تاروں والی باڑ



Comments

2 responses to “منتخب کلام دانیال طریر ………………. خاموشی …”

  1. MashaAllah ???? ???? ???? ???? in shayer sahab ki foto too itni bari nai jitni inki shayri kamal he yani mature ????????????

جواب دیں