مرضی خدا کی کیا ہے کوئی جانتا نہیں کیا چاہتی ہے خ…
مرضی خدا کی کیا ہے کوئی جانتا نہیں
کیا چاہتی ہے خلقِ خدا ہم سے پوچھیے
ابو محمّد سحرؔ کا یومِ ولادت
10؍اپریل 1930
نام ابو مّحمد ابوالقاسم، قلمی نام ابو محمد سحرؔ ہے۔ 10؍اپریل 1930ء کو محی الدین پور، ضلع فتح پور اتر پردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ سحرؔ حمیدیہ کالج بھوپال میں پروفیسر اور اردو ڈپارٹمنٹ کے سربراہ تھے۔ انہوں نے درجن بھر سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔
ابو محمد سحرؔ، 2002ء میں انتقال کر گئے ۔
ابو مّحمد سحرؔ کے منتخب اشعار
..
برق سے کھیلنے طوفان پہ ہنسنے والے
ایسے ڈوبے ترے غم میں کہ ابھر بھی نہ سکے
—
بلائے جاں تھی جو بزم تماشا چھوڑ دی میں نے
خوشا اے زندگی خوابوں کی دنیا چھوڑ دی میں نے
—
پھر کھلے ابتدائے عشق کے باب
اس نے پھر مسکرا کے دیکھ لیا
—
بے ربطئ حیات کا منظر بھی دیکھ لے
تھوڑا سا اپنی ذات کے باہر بھی دیکھ لے
—
تکمیلِ آرزو سے بھی ہوتا ہے غم کبھی
ایسی دعا نہ مانگ جسے بد دعا کہیں
—
رہِ عشق و وفا بھی کوچہ و بازار ہو جیسے
کبھی جو ہو نہیں پاتا وہ سودا یاد آتا ہے
—
سحرؔ اب ہوگا میرا ذکر بھی روشن دماغوں میں
محبت نام کی اک رسم بے جا چھوڑ دی میں نے
—
عشق کو حسن کے اطوار سے کیا نسبت ہے
وہ ہمیں بھول گئے ہم تو انہیں یاد کریں
—
عشق کے مضموں تھے جن میں وہ رسالے کیا ہوئے
اے کتابِ زندگی تیرے حوالے کیا ہوئے
—
مرضی خدا کی کیا ہے کوئی جانتا نہیں
کیا چاہتی ہے خلقِ خدا ہم سے پوچھیے
—
ہمیں تنہائیوں میں یوں تو کیا کیا یاد آتا ہے
مگر سچ پوچھیے تو ایک چہرا یاد آتا ہے
—
ہندو سے پوچھیے نہ مسلماں سے پوچھیے
انسانیت کا غم کسی انساں سے پوچھیے
—
زندگی خاک بسر شعلہ بہ جاں آج بھی ہے
تجھ کو کھو کر تجھے پانے کا گماں آج بھی ہے
—
ہوشمندی سے جہاں بات نہ بنتی ہو سحرؔ
کام ایسے میں بہت بے خبری آتی ہے
……………………..