اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی کا یومِ پیدائش July 1…


مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی کا یومِ پیدائش
July 12, 1885

اثر لکھنؤ کے خاص تہذیبی اور شاعرانہ ماحول ومزاج کی نمائندگی کرنے والے شاعروں کے آخری گروہ سے ہیں ۔ ان کی ولادت 12 جولائی 1885 کو لکھنؤ کے محلہ کٹرہ ابو تراب میں ہوئی ۔ ان کا اصل نام مرزا جعفر علی خاں تھا ۔ اثر تخلص کرتے تھے ۔ کینگ کالج لکھنؤ سے تعلیم حاصل کی ۔ ڈپٹی کلکٹری کے ساتھ کئی اور اہم عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں ۔ وہ کچھ عرصہ ریاست جموں وکشمیر کے وزیر بھی رہے ۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے بھی نوازا ۔
اثر لکھنوی کی شاعری موضوعاتی لحاظ سے تو اسی روایتی مزاج کی ہی ہے جو اس وقت کے لکھنو میں عام تھا لیکن عشقیہ موضوعات کے اس روایتی بیان کو ان کی زبان کی صٖفائی اور روزمرہ کے خوبصورت استعمال نے خاصے کی چیز بنادیا ہے ۔ عزیز لکھنوی کی استادی نے ان کے شعروں میں اور چمک پیدا کی ۔
شاعری کے ساتھ اثرلکھنوی نے مختلف ادبی موضوعات پر مضامین بھی لکھے ۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’ چھان بین ‘ کے نام سے شائع ہوا ۔ میر انیس اور غالب پر ان کی کتابیں بھی خاصی اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہیں ۔
.
حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں
یہ دھوکا تھا کہ تو ہے اور میں ہوں

مقام بے نیازی آ گیا ہے
وہ جان آرزو ہے اور میں ہوں

فریب شوق سے اکثر یہ سمجھا
کہ وہ بیگانہ خو ہے اور میں ہوں

کبھی سودا تھا تیری جستجو کا
اب اپنی جستجو ہے اور میں ہوں

کبھی دیکھا تھا اک خواب محبت
اب اس کی آرزو ہے اور میں ہوں

فقط اک تم نہیں تو کچھ نہیں ہے
چمن ہے آب جو ہے اور میں ہوں

پھر اس کے بعد ہے اس ہو کا عالم
بس اک حد تک ہی تو ہے اور میں ہوں
…