اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

مرثیہ گو شاعر ساحر لکھنوی کا یومِ پیدائش (پیدائش: …


مرثیہ گو شاعر ساحر لکھنوی کا یومِ پیدائش
(پیدائش: 5 ستمبر 1931ء – وفات: 25 نومبر 2019ء)
——
منتخب کلام
——
منزلیں پاؤں پکڑتی ہیں ٹھہرنے کے لیے
شوق کہتا ہے کہ دو چار قدم اور سہی
——
کیوں میری طرح راتوں کو رہتا ہے پریشاں
اے چاند بتا کس سے تری آنکھ لڑی ہے
——
کل تو اس عالم ہستی سے گزر جانا ہے
آج کی رات تری بزم میں ہم اور سہی
——
خندۂ گل سے ساحرؔ نہ بہلیں گے ہم
تازہ دم میں جنوں کے ابھی ولولے
——
جو سنبھل سنبھل کے بہک گئے، وہ فریب خوردۂ راہ تھے
وہ مقامِ عشق کو پا گئے، جو بہک بہک کے سنبھل گئے
——
یہ عدل ہے کہ رہے تیغ دستِ منصف میں
یہ ظلم ہے کہ قلم دستِ بے ہنر میں رہے
——
یہ بات عام روش کے خلاف کرتا ہوں
میں اپنے جہل کا خود اعتراف کرتا ہوں
——
تپ کے کندن کی مانند نکھرا جنوں
جس قدر غم بڑھا بڑھ گئے حوصلے
وقت مجھ سے مرا حافظہ چھین لے
آگ میں کوئی یادوں کی کب تک جلے
——
بلبل نوید لائ پھولوں کى تشترى میں
دسویں بہار آئ صحراۓ زندگى میں
گلشن میں گھومتى ہے شاخوں پہ جھومتى ہے
پھولوں کو چومتى ہے، بادِ سحر خوشى میں
مثلِ صبا پکاروں جاکر گلى گلى میں
فصلِ بہار آئ باغِ محمدى میں
جلوه فگن ہے کوئ پھر صورتِ على۶ میں
پھر کھلبلى مچى ہے اربابِ خیبرى میں
نورِ رخِ نقى۶ ہے یوں دامنِ تقى۶ میں
جیسے کھلے کنول سا اک پھول چاندنى میں
شاہوں کو راس آئ در کى تیرے گدائ
جبریل۶ کى سعادت اس گھر کى چاکرى میں
اِن کى وِلا عبادت، اِن کى ثناء عبادت
مصروفِ بندگى ہوں مداحى نقى میں
اعجاز منقبت سے ساحر سا بے ہنر میں
جادو جگا رہا ہے اس رنگِ شاعرى میں
——
فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے
ہم جلیں تم جلو ساری دنیا جلے
تپ کے کندن کی مانند نکھرا جنوں
جس قدر غم بڑھا بڑھ گئے حوصلے
دل میں پھیلی ہے یوں روشنی یاد کی
جیسے ویران مندر میں دیپک جلے
جشن سے میری بربادیوں کا چلو
دوستو آؤ شیشے میں شعلہ ڈھلے
ہر نفس جیسے جینے کی تعزیر ہے
کتنے دشوار ہیں عمر کے مرحلے
ہم الجھتے رہے فلسفی کی طرح
اور بڑھتے گئے وقت کے مسئلے
موڑ سکتے ہیں دنیا کا رخ آج ہی
آپ سے کچھ حسیں ہم سے کچھ منچلے
وقت مجھ سے مرا حافظہ چھین لے
آگ میں کوئی یادوں کی کب تک چلے
خندۂ گل سے ساحرؔ نہ بہلیں گے ہم
تازہ دم میں جنوں کے ابھی ولولے
……………….