قسط 9 جنت کے پتے اسے …
قسط 9
???? جنت کے پتے ????
اسے لگا کہ وہ ایک سنگین غلطی کر چکی ھے۔ خطرے کا آلارم زور زور سے اس کے اندر بجنے لگا۔
کس بارے میں؟؟؟ وہ بوجھل آواز میں بولا تو وہ دروازے کی طرف سمٹی۔۔ نامحسوس انداز سے اسکا ہاتھ ہینڈل پر رک گیا۔۔
"آپ کے اس رشتے کے انکار کے بارے میں”
ساری عمر پڑی ھے یہ باتیں کرنے کے لئے حیا! ابھی تو ان لمحوں سے فائدہ اٹھاؤ جو میسر ھوں۔۔۔۔ وہ ایک دم اس پر جھکا۔۔ حیا کے لبوں سے چیخ نکلی۔۔ ولید نے دونوں ہاتھ اسکی گردن پر رکھنے چاہے۔۔ مگر اس نے زور سے ہینڈل کھینچ کر دروازہ دھکیلا۔۔۔
دروازہ کھلتا چلا گیا۔ وہ دوسرے ہاتھ سے ولید کو دھکا دے کر باہر نکلی۔۔ اس کا دوپٹہ ولید کے ہاتھوں میں آگیا۔ وہ تیزی سے باہر بھاگی ولید نے دوپٹہ کھینچا۔۔ دوپٹہ اسکی گردن سے رگڑتا ھوا پیچھے ولید کے ہاتھوں میں رہ گیا۔۔۔ وہ بنا پیچھے مڑ کے دیکھے بھاگے جا رہی تھی
اسے ولید کے دروزہ کھول کر کوئی اونچی سی انگریزی گالی دینے کی آواز آئی۔۔ اسکے بھاگتے قدموں میں تیزی آگئی۔۔ گلیاں سنسان تھیں۔۔ جانے وہ کہاں لے آیا تھا آج اتوار تھا اور دکانوں کے شٹر گرے ھوئے تھے۔ اوہ ادھر اُدھر دیکھے بغیر بدحواس سی دوڑتی ھوئی ایک گلی میں مڑ گئی۔۔۔
پیچھے کوئی دوڑتا ھوا آرہا تھا۔ وہ بھاگتی ھوئی گلی کے دوسرے سرے تک پہنچی ۔ مگر یہ کیا؟؟ گلی بند تھی ڈیڈ اینڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے ساختہ پلٹی۔۔ بھاگتے قدموں کی آواز قریب آرہی تھی وہ دوڑ کر گلی کے بند سرے تک گئی اور دیوار کی اینٹوں کو چھو کر ٹٹولا۔ شائد اندر کوئی جادوئی دروازہ ھو۔۔ شائد ہیری پوئٹر کی کہانیاں سچ ھوں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں بھاگتی ھو؟؟ مسرور سے انداز میں پیچھے سے کسی نے کہا تو وہ گھبرا کر پلٹی۔۔۔ ولید سامنے سے قدم قدم چلا آرہا تھا۔ اس کے لبوں پہ فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔۔ وہ نڈھال سی دیوار سے لگ گئی۔۔ اس کا دوپٹہ تو وہیں رہ گیا تھا۔۔۔ اب بغیر آستینوں کے اس کے چھلکتے بازو اور گلے کا گہرا کٹ۔۔۔ اس نے بے اختیار سینے پہ بازو لپیٹے۔۔۔
"مجھے جانے دو” اسکی آواز بھر گئی۔۔ پہلی دفعہ یہ غلطی کی تھی اور پہلی ہی دفعہ اتنی بڑی سزا۔۔۔۔ :'(
"کیسے جانے دوں؟؟؟ پھر تم نے ہاتھ تھوڑی آنا ھے؟؟ ”
وہ چلتے چلتے اس کے چند قدم کے فاصلے پہ آکھڑا تھا۔۔۔۔ دور لگے اسٹریٹ پول کا بلب اس کے پیچھے چھپ گیا۔۔
"پلیز میں ایسی لڑکی نہیں ھوں” تو کیسی لڑکی ھو مجھ سے لفٹ لے لی مگر شادی سے انکار ھے؟؟؟
تب ہی گاڑی میں اتنی بے رخی دکھا رہی تھی۔۔۔۔ وہ اس کے بلکل سامنے آکے رکا۔۔۔۔۔!!!
پلیز وہ ہولے ہولے لرز رہی تھی۔۔ اب اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ ولید کو دھکا دے دیتی۔۔۔۔
"ششش وہ مسکراتے ھوئے آگے بڑھا ۔۔ حیا نے آنکھیں میچ لیں اس کا سر چکرانے لگا۔۔۔ تب ہی اس نے زور سے کسی کے ضرب لگنے کی آواز سنی اور پھر ولید کراہ۔۔۔
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔۔!!!!
بہت محنت سے ٹائپ کر رہی ھوں۔ آپ سب کے لئے۔۔ آپ سب اپنی رائے دیں اور پوسٹ شیئر کیا کریں۔۔۔
جاری ہے…