پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

قرت العین حیدر کے یوم پیدائش پر وکی پیڈیا سے یہ مض…


قرت العین حیدر کے یوم پیدائش پر وکی پیڈیا سے یہ مضمون شئر کیا جا رہا ہے۔

پیدائش: 20 جنوری 1927
علی گڑھ، اتر پردیش، بھارت
وفات: 21 اگست 2007 (عمر 80 سال)نوئیڈا، بھارت
قلمی نام : عینی آپا
پیشہ : مصنف
قومیت : بھارتی
مادر علمی : لکھنؤ یونیورسٹی
Indraprastha College، دہلی
اصناف : ناول نگار، افسانہ نگار، خاکہ نگار
نمایاں کام : آگ کا دریا (1959)

قرت العین حیدر بھارت میں مقیم اردو کی ایک خاتون ناول نگار تھیں۔
20 جنوری، 1927ء میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرت العین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا۔ لیکن بعد میں انھوں نے بھارت آ کر رہنے کا فیصلہ کیا۔

قرت العین حیدر نہ صرف ناول نگاری کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے مشہور ناولوں میں آگ کا دریا،آخرِ شب کے ہم سفر، میرے بھی صنم خانے، چاندنی بیگم اور کارِ جہاں دراز ہے شامل ہیں۔

ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف نظرآتا ہے اور ان کے دو ناولوں آگ کا دریا اور آخر شب کے ہم سفر کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔

آخرِ شب کے ہم سفر کے لیے 1989ء میں انہیں بھارت کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ انعام سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں 1985ء میں پدم شریاور 2005ء میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔

11 سال کی عمر سے ہی کہانیاں لکھنے والی قرت العین حیدر کو اردو ادب کی ورجینا وولف کہا جاتا ہے۔ انھوں نے پہلی بار اردو ادب میں سٹریم آف کونشیئس نس کی تکنیک کا استعمال کیا تھا۔ اس تکنیک کے تحت کہانی ایک ہی وقت میں مختلف سمت میں چلتی ہے۔

اعزازات

انھیں ساہتیہ اکادمی اور گیان پیٹھ اکادمی کے اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ ساہتیہ اکادمی کا اعزاز ان کے افسانوی مجموعہ پت جھڑ کی آواز پر 1967ء میں تفویض ہوا جب کہ گیان پیٹھ اعزاز 1989ء میں آخرِ شب کے ہم سفر پر دیا گیا تھا۔

وفات

21 اگست، 2007ء کو دہلی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔

تصانیف

آگ کا دریا
آخرِ شب کے ہم سفر (گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ)
میرےبھی صنم خانے
چاندنی بیگم
کارِ جہاں دراز ہے
روشنی کی رفتار
سفینۂ غمِ دل
پت جھڑ کی آواز (ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ)
گردشِ رنگِ چمن
چائے کے باغ
دل ربا
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2111135729116949