فیصل صاحب کی پیدائش
November 28
منفرد لب و لہجے کے مالک شاعر فیصل صاحب پاکستان اور پاکستان سے باہر اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں
کراچی سے تعلیم و تربیت کے بعد آج کل جاب کے سلسلے میں بہاولپور میں مقیم ہیں ، ایک لمبے عرصے سے شعر کہہ رہے ہیں ، افسانے اور افسانچے بھی لکھتے ہیں ۔
غزل میں آپ کا رویہ آپ اپنی مثال آپ ہے ،اکثر غزل کی نئی زمینوں میں فکری سوچ کے ہل چلاتے نظر آتے ہیں ، فیصل صاحب کے شعر فکری لحاظ سے نئی راہیں کھولتے ہیں
سادہ زبان میں بڑا شعر کہنا فیصل صاحب کا خاصہ ہے ، اور اِن کا الگ لہجہ ہی انہیں اِس عہد کے باقی شاعروں سے ہمیشہ ممتاز رکھتا ہے ۔۔
فیصل صاحب کی شاعری سے آپ کے لئے کچھ انتخاب جو یقینا آپ کو پسند آئے گا اور مدتوں یاد رہے گا ۔
۔
انت مٹی ہے معتبر لوگو
آدمی ہر طرح سے فانی ہے
۔
خود کو شیطان کیا سمجھتا ہے
کچھ خرافات میرے بس میں ہیں
زندگی منہ بنائے پھرتی ہے
جیسے حالات میرے بس میں ہیں
۔
یوں اُگاتا ہوں سوچ کے سورج
روشنی سے ہی راہ نکلے گی
۔
اک تہہ خاک یہی چین بہت ہے
سانس لینے کی وبا تو نہیں ہو گی
خُود کہانی پہ کریں غور کہ صاحب
چیخ لفظوں میں ادا تو نہیں ہو گی
۔
اُن سے کہنا عذاب ہوتا ہے
خود کو جو خام خواۃ سمجھتے ہیں
۔
یہ مناسب تو نہیں تم کو دکھا دیں لوگو
دل کے آزار جو ہجرت نے نہیں دیکھے تھے
ہم نے قدموں سے جبیں جوڑ کے رکھ دی دیکھو
ایسے سجدے تو عبادت نے نہیں دیکھے تھے
۔
زندگی جنگ ہے تو آپ سپاہی اُس کے
زندگی پیار ہے تو پیار سکھایا ہم نے
۔
پھر کہانی یہ خود سُنائے گا
مجھ کو پتھر میں دل بنانے دو
موت کا کوئی حل نہیں ہوتا
دو اجازت کہ ہم کو جانے دو
۔
زرا سی دیر کا کردار تھا کہانی میں
زرا بھی یاد نہیں زندگی گزاری ہے
۔
کون کہتا ہے ہجر کا قصہ
وصل کے عین درمیاں رکھ دو
خواب میں بھی فرار ممکن ہے
میرے بستر پہ بیڑیاں رکھ دو
۔
میں تھا عہدِ گزشتہ سے برہم
تُو بھی ہے , بے وفا نئی دنیا
۔
میرے بچپن میں سبھی گھر تھے مرے گھر جیسے
تب محلے میں سبھی لوگ بھلے رہتے تھے
ہم تھے جنگل میں بہت شور مچانے والے
اور جو پیڑ تھے خاموش کھڑے رہتے تھے
۔
لوگ ابلیس بھی ہیں دنیا میں
سب کا تو احترام ٹھیک نہیں

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔